فیکٹ چیک: منی پور میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملے کا ویڈیو من گھڑت دعووں کے ساتھ وائرل

وائرل ویڈیو جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم نے اگورنر ہاؤس کو آگ لگا دی اور اور اب تک 92 افراد ہلاک کردئے گئے۔ تاہم تحقیق سے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ویڈیو بشنوپور ضلع میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کا ہے اور درجنوں ہلاکتوں کی خبر فرضی ہے۔

Update: 2026-04-13 05:29 GMT


حالیہ دنوں میں منی پور میں تشدد ایک بار پھر بھڑک اٹھا۔ دھماکے میں دو بچوں کی ہلاکت کے بعد خطے میں پرتشدد واقعات اور آتش زنی کی وجہ سے حالات پھر سے کشیدہ ہوگئے۔ انتظامیہ نے فوری طور اضافی فورسز تعینات کرتے ہوئے حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا۔


12اُکھرول ضلع میں بی ایس ایف کانسٹیبل کے قتل کے بعد سیکورٹی فورسز نے 12 اپریل کو مسلسل تیسرے دن بھی مشترکہ کومبنگ آپریشن جاری رکھا تاکہ عسکریت پسندوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ آپریشن کے دوران، سیکورٹی اہلکاروں نے 21 غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ بنکروں کو تباہ کر دیا، حکام نے بتایا۔ حکام کے مطابق، 14 بنکر سکِبنگ گاؤں میں اور مزید سات بنکر مونگکوٹ چیپو گاؤں میں، جو لیتان پولیس اسٹیشن کے تحت پہاڑی ضلع میں آتا ہے، مسمار کئے گئے۔


اس دوران، سوشل میڈیا پر منی پور میں آتش زنی اور تشدد کے واقعے کا ایک ویڈیو خوب پھیلایا جارہا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ [ آرکائیو] کررہے ہیں کہ " منی پور میں مشتعل ہجوم نے گورنر ہاؤس اور بھارتی فوج کے ہیڈکوارٹر کو آگ لگا دی۔ منی پور پولیس کے 117 اہلکاروں کو مشتعل ہجوم نے اغوا کر لیا ہے، اور بھارتی فوج کا آپریشن جاری ہے۔ گزشتہ رات سے جھڑپوں میں 92 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔"


وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔


وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ مندرجہ ذیل ہے۔


 

فیکٹ چیک:


تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے کی جانچ پڑتال میں پایا کہ یہ ایک فرضی خبر ہے۔ یہ ویڈیو دراصل 7 اپریل 2026 کو بشنوپور ضلع کے گیل مول گاؤں میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے جب ایک پرتشدد ہجوم نے گاؤں میں واقع سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کردیا تھا۔


سب سے پہلے ہم نے InVID ٹول کی مدد سے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمس حاصل کئے اور انہیں ایک ایک کرکے گوگل ریورس امیج سرچ کی مدد سے تلاش کیا۔ ہمیں جو سرچ نتائج ملے ان میں ہمیں 7 اپریل 2026 کی 'ہندوستان ٹائمس' ایک ٹوئیٹ ملی جس میں وائرل ویڈیو کو شامل کرتے ہوئے یہ کیپشن دیا گیا تھا، "منی پور میں سی آر پی ایف کیمپ پر دھاوا بولنے کی کوشش کرنے پر ہجوم پر فائرنگ کی گئی۔ آج صبح موئرانگ میں راکٹ لانچر حملوں میں دو بچوں کی ہلاکت کا احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے تیل کے ٹینکروں کو آگ لگا دی۔"


اور اسی میڈیا کے نیوز پورٹل میں مزید کہا گیا ہیکہ، منگل کے روز نسلی تشدد سے متاثرہ منی پور میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہجوم کے ایک گروپ پر مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں دو مظاہرین ہلاک ہو گئے۔


"ریاستی وزیر داخلہ گوونداس کونتھوجم نے بتایا کہ سی آر پی ایف اہلکاروں کی جانب سے ہجوم کو قابو میں لانے کی کوشش میں [کی گئی مبینہ فائرنگ میں] دو افراد نے گولیوں کے زخموں سے تاب نہ لاکر دم توڑ دیا، اور کم از کم 31 افراد زخمی ہوئے۔"




اس جانکاری سے مزید سرچ کرنے پر ہمیں 'منی پور پولیس' کے آفیشئل ایکس ہینڈل پر 10 اپریل کو پوسٹ کی گئی ایک ٹوئیٹ ملی جس میں وائرل پوسٹ کو جعلی بتایا گیا ہے۔


منی پور کی پولیس کے مطابق، یہ ویڈیو 7 اپریل 2026 کو ضلع بشنوپور کے گیل مول گاؤں میں واقع سی آر پی ایف کیمپ پر، پرتشدد ہجوم کی جانب سے حملہ سے متعلق ہے۔


"اس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ غلط معلومات پھیلانے والے افراد/اکاؤنٹس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔"



مزید جانچ پڑتال کرنے پر ہمیں 'پی آئی بی فیکٹ چیک' کے ایکس ہینڈل پر ٹوئیٹ ملی جس وائرل پوسٹ میں شامل متن کو فرضی بتاتے ہوئے کہا گیا ہیکہ 'Proudindiannavi' نامی ایکس ہینڈل منی پور (#Manipur) کے حوالے سے متعدد دعوے پھیلا رہا ہے تاکہ خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے۔ یہ دعوے جھوٹے ہیں۔ "


اس پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ عوام ایسی گمراہ کن پوسٹس پر اعتماد نہ کریں بلکہ درست معلومات کے لئے ہمیشہ تصدیق شدہ اور سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔



تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے واضح ہوگیا کہ وائرل ویڈیو منی پور کے بشنوپور کے گیل مول گاؤں میں واقع سی آر پی ایف کیمپ پر، پرتشدد ہجوم کی جانب سے کئے گئے حملہ سے متعلق ہے۔ اور جاریہ تشدد میں صرف پانچ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے جیسے مشتعل ہجوم کی جانب سے گورنر ہاؤس کو آگ لگانے اور جھڑپوں میں 92 افراد کی ہلاکت وغیرہ فرضی پائے گئے۔

Claim :  منی پور میں مشتعل ہجوم نے گورنر ہاؤس اور بھارتی فوج کے ہیڈکوارٹر کو آگ لگا دی
Claimed By :  X users
Fact Check :  Unknown
Tags:    

Similar News