فیکٹ چیک: کیا آر ایس ایس نے مغربی ایشیا کی جنگ میں اسرائیل کی حمایت میں کوئی ریلی نکالی؟ جانئے پوری حقیقت
وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ آر ایس ایس کارکن اسرائیلی جھنڈے کے ساتھ اسرائیل۔ایران کی جنگ میں تل ابیب کی حمایت میں مارچ کر رہے ہیں۔ تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ پرانی اور ترمیم شدہ تصویر ہے، آر ایس ایس نے 2016 میں خاکی نیکر ختم کر دی تھی۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ "صرف بھارت" کے پاس ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے۔ ناگپور میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ودربھ پرانت دفتر کی سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کے دوران بھاگوت نے کہا کہ کئی ممالک فروغ امن کے معاملے میں بھارت کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ "کئی ممالک کا کہنا ہے کہ صرف بھارت ہی [مغربی ایشیا میں] جاری جنگ کو ختم کر سکتا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں تنازعات کی جڑ خود غرض مفادات اور غلبہ پانے کی خواہش ہے، اور پائیدار امن صرف اتحاد، نظم و ضبط اور 'دھرم' کے اصولوں کی پابندی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ "دو ہزار سال سے دنیا نے تنازعات کو حل کرنے کے لئے مختلف نظریات آزمائے ہیں لیکن کچھ خاص کامیابی نہیں ملی-"
ایک جانب آر ایس ایس کے سربراہ نے مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے خاتمے میں بھارت کے کردار پر زور دیا تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر اسی ہندو تنظیم کے 'چڈھی پہنے' کارکنوں کا اسرائیل کے پرچم تھامے اور کھنڈوا پہنے ریلی نکالنے کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔ صارفین نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ [آرکائیو] کررہے ہیں کہ "برہمنوں کی پِتر بھومی کی پہچان مودی جی نے لوگوں کو کروا ہی دی۔ #BAMCEF جو بات برسوں سے کہہ رہا تھا آج وہ سچ ہو گئی"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ یہ آر ایس ایس کے کارکنوں کی ایک ترمیم شدہ اور پرانی تصویر ہے جسے موجودہ اسرائیل اور ایران کی جنگ اور وزیر اعظم کے اسرائیل کو 'فادر لینڈ' قرار دینے کے پس منظر میں فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔
سب سے پہلے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کیا آر ایس ایس نے حالیہ دنوں میں مڈل ایسٹ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل کی تائید میں کوئی ریلی نکالی۔ ہمیں ایسی کوئی تازہ میڈیا رپورٹ یا سوشل میڈیا پوسٹ کا لنک نہیں ملا۔ تاہم، اکتوبر 2025 کا این ڈی ٹی وی کا ویڈیو ملا جس میں بتایا گیا کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت کی جانب سے چٹاپور میں آر ایس ایس کو مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی جانے پر خطے میں کشیدگی دیکھی گئی۔
اس ویڈیو کی ایک خاص بات یہ ہیکہ مارچ میں شامل آر ایس ایس کے کارکنوں کو چڈھی نہیں بلکہ فل پینٹ پہنے دکھایا گیا ہے۔
ہندو تنظیم کے یونیفارم سے متعلق گوگل سرچ کرنے پر ہمیں 4 جون 2016 کا 'ہندوستان ٹائمس' کا مضمون ملا جس میں بتایا گیا کہ "سنگھ نے رواں سال مارچ میں، خاکی نیکر، جو 91 برسوں سے ان کے کارکنوں کے روایتی لباس رہا ہے، کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ناگپور میں منعقدہ تین روزہ سالانہ اجلاس 'اکھل بھارتیہ پرتندھی سبھا' میں کیا گیا، جو آر ایس ایس کی سب سے بڑی فیصلہ ساز تنظیم ہے۔"
پھر ہم نے اے آئی ٹولس کی مدد سے وائرل تصویر سے اسرائیلی نشانی ہٹاکر حاصل ہونے والی تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ ٹول سے تلاش کیا۔ نتیجے میں جو لنکس ملے ان میں ہمیں 'انڈیا ڈاٹ کام' اور 'اسکرول ڈاٹ ان' کے بالترتب 2015 اور 2016 کے مضامین ملے جن میں آر ایس ایس کی حقیقی روٹ مارچ کی تصویر کو IANS کے حوالے کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہوگیا کہ سنگھ نے نہ اسرائیل۔ایران کی جنگ سے متعلق نہ تو حکومت ہند سے مختلف اپنا موقف ظاہر کیا ہے اور نہ ہی اسکے کارکنوں نے اسرائیلی جھنڈے اور نشانیوں کے ساتھ کوئی روٹ مارچ کیا۔ اے آئی ٹولس کی مدد سے 2015 کی آر ایس ایس مارچ کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے اسے موجودہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں من گھڑت دعوے کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔