فیکٹ چیک: یو پی کے مدرسہ میں یوم جمہوریہ تقریب کا پرانا ویڈیو افغانستان کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ وائرل
ایک وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ افغان عوام بھارتی پرچم تلے قومی ترانہ گا رہے ہیں۔ تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ ویڈیو اترپردیش کے دارالعلوم دیوبند میں حالیہ یومِ جمہوریہ کے موقع پر شوٹ کیا گیا تھا
پاکستان و افغانستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی کے پیش نظر، چین نے براہ راست دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چین کے خصوصی ایلچی برائے افغان امور، یوئے شیاویونگ نے کابل میں طالبان حکومت کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی اور کہا کہ چین ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
چین کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کے دوران امیر خان متقی نے کابل کے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے پاکستان پر افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے چین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سعودی عرب، قطر اور ترکی کی ثالثی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد، بیجنگ نے براہِ راست دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوج نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کئے گئے فضائی حملوں 130 سے زائد طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ افغانستان کا کہنا ہے کہ کابل، قندھار اور پکتیا میں کئے گئے حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس درمیان، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے جس میں دکھایا گیا ہیکہ لوگوں کا مجمع ایک مسجد کے احاطے میں بھارتی پرچم کے تلے جمع ہوکر قومی ترانہ گا رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ [آرکائیو] کررہے ہیں کہ "یہ منظر افغانستان کا ہے جبکہ بھارت کے مسلمانوں کو قومی ترانے پر کھڑے ہونے میں بھی دقت ہوتی ہے۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ درج ذیل ہے۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں شیئر کیا گیا ویڈیو اور اس میں کئے گئے دعوے کی جانچ پڑتال میں پایا کہ یہ ویڈیو افغانستان کا نہیں بلکہ اترپردیش کے دارالعلوم دیوبند مدرسے کا ہے جہاں مدرسہ کے طلبا اور مقامی مسلمان یوم جمہوریہ کے موقع پر پرچم لہرانے کے بعد اجتماعی طور پر ترانہ ہند گارہے ہیں۔
تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کے منفرد فریمس کی مدد سے گوگل لینس ٹول میں سرچ کیا تو ہمیں کچھ سوشل میڈیا پوسٹس کے لنکس ملے، جن میں سے 'پوچھو انڈیا' کے فیس بک پر رواں سال 28 جنوری کو یہ ویڈیو پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس کے ویژولس، وائرل ویڈیو سے میل کھاتے ہیں۔
اس ویڈیو کے ہندی کیپشن کی عبارت اس طرح ہے، "دارالعلوم دیوبند میں یومِ جمہوریہ کا یہ ویڈیو خوب سرخیاں بٹور رہا ہے، آپ بھی دیکھیں۔"
اس جانکاری کو استعمال کرتے ہوئے جب ہم نے موزوں کیورڈس کی مدد سے گوگل سرچ کیا تو ہمیں 27 جنوری کا 'نوبھارت ٹائمس' نامی ہندی نیوز پورٹل پر ایک آرٹیکل ملا۔ اس رپورٹ وائرل ویڈیو کے اسکرین شاٹ کا فیچر امیج شئیر کرتے ہوئے رپورٹ کیا گیا ہیکہ، "دنیا بھر میں مشہور اسلامی تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند کو وقتاً فوقتاً سوالات کا سامنا رہا ہے۔ خاص طور پر حب الوطنی اور قومی علامتوں کے ادب کے حوالے سے یہ ادارہ سوشل میڈیا پر مختلف اعتراضات کا ہدف بنتارہا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک ویڈیو منظرعام پر آیا ہے جو ان تمام اعتراضات کا دوٹوک جواب دیتی دکھائی دیتا ہے۔ اس ویڈیو میں 26 جنوری یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالعلوم کے احاطے میں قومی ترانے کے ساتھ ترنگا پرچم لہرایا گیا۔ 26 جنوری کے اس ویڈیو نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کی جڑیں اس ملک کی مٹی سے وابستہ ہیں۔"
ایسا پہلی بار نہیں ہورہا ہیکہ دارالعلوم میں 2026 میں یوم جمہوریہ کے موقع پر ترنگا لہرایا گیا۔ گوگل سرچ کرنے پر ہمیں 2018 کا 'جاگرن' نامی ہندی نیوز پورٹل کا لنک ملا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ، "یومِ جمہوریہ کے موقع پر اسلامی تعلیم کے بڑے مراکز دارالعلوم اور دارالعلوم وقف سمیت مدارس میں بھی شان و شوکت کے ساتھ ترنگا پرچم لہرایا گیا۔ جمعہ کے روز دیوبند میں دن بھر یومِ جمہوریہ کی رونق رہی۔ سرکاری عمارتوں اور تعلیمی اداروں کے علاوہ مدارس میں بھی یومِ جمہوریہ کے موقع پر ترنگا لہرایا گیا۔ ملک کی آزادی میں مدارس اور علما کی قربانیوں کا ذکر کیا گیا۔ دارالعلوم میں مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے پرچم لہرایا کی اور اہلِ وطن کو یومِ جمہوریہ کی مبارکباد دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنگِ آزادی میں مدارس اور علما کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے طلبہ کو اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کی۔"
'پنجاب کیسری یو پی' نامی میڈیا ادارے کے یوٹیوب چینل پر ہمیں 2020 کے یوم جمہوریہ کا ویڈیو ملا۔ اس ویڈیو کا ٹائٹل ہے، " یومِ جمہوریہ 2020: دارالعلوم دیوبند میں ترنگا پرچم لہرایا گیا، طلبہ نے حب الوطنی کے نغمے گائے۔"
تحقیق اور میڈیا رپورٹس کی روشنی میں یہ واضح ہوگیا کہ دینی مدرسہ میں ترنگا پرچم لہرائے جانے کا ویڈیو افغانستان کا نہیں بلکہ اترپردیش کے دیوبند علاقہ کا ہے، جہاں گذشتہ یوم جمہوریہ کے موقع پر معروف اسلامی مدرسہ دارالعلوم دیوبند میں ترنگا لہرایا گیا۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن ہے۔