فیکٹ چیک: فضائی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت سے منسوب جسد خاکی کی تصویر دراصل اے آئی سے تیار کردہ ہے

اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور ملبے سے جسد خاکی ملنے کی خبر، دراصل من گھڑت ہے۔وائرل تصویر اے آئی سے تیار کردہ ہے

Update: 2026-03-02 02:40 GMT

امریکہ اوراسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے بعد تہران اور تل ابیب کے بیچ میزائیل حملے اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے میڈیا کو بتایا کہ سپریم لیڈر کا قتل "ایک نہایت سنگین اور بے مثال اقدام ہے اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ "اپنے دفاع میں ہمیں کسی قسم کی پابندی یا حدود درپیش نہیں ہے۔"


امریکی اور اسرائیلی فوجوں نے مشترکہ طورپر ایرانی فوجی اور حکومتی مقامات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں علی خامنہ ای سمیت ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر دفاع بھی ہلاک ہوگئے۔ ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر دفاع بھی ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے جو ملک کی دفاعی کونسل کے اجلاس کو نشانہ بنا رہا تھا، جیسا کہ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق، جنرل عبد الرحیم موسوی اور وزیر دفاع جنرل عزیز ناصرزادہ کے ساتھ ساتھ ایران کی نیم فوجی انقلابی گارڈ کے سربراہ اور سیکیورٹی مشیر علی شمخانی بھی جاں بحق ہوگئے۔ تہران نے 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔


اس درمیان، سوشل میڈیا پر ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے کی تصویر شیئر کی جارہی ہے، جس میں ملبے میں دبی آیت اللہ خامنہ ای کی مبینہ لاش کے اطراف جمع ریسکیو ٹیم کے اراکین کو دکھا کر یہ دعویٰ [آرکائیو] کیا جارہا ہیکہ 'سپریم لیڈر کی لاش انکے تباہ شدہ کمپاونڈ کے ملبے سے ملی'۔

وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔


وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ درج ذیل ہے۔






Full View

 

Full View


فیکٹ چیک:


تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ وائرل تصویر دراصل آرٹفیشئل انٹلی جنس ٹول کی دین ہے۔ کیوں کہ حملہ کے بعد سے ابھی تک ایرانی یا اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے کوئی تصویر جاری نہیں کی گئی ہے۔


کون تھے علی خامنہ ای؟


آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے سابقہ سپریم لیڈر تھے۔ وہ 86 برس کے اسلامی اسکالر تھے اور 1989 سے اس اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔ اُنہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے بعد قیادت سنبھالی تھی۔ خمینی نے 1979 کے انقلاب کے ذریعے امریکہ کے اتحادی اور شاہ محمد رضا پہلوی کو اقتدار سے بے دخل کرکے ایران میں اسلامی طرز نظام نافذ کیا تھا۔


اپنے دور اقتدار میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو مغربی ممالک کے ساتھ سخت کشیدہ تعلقات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے دور میں ایران پر شدید اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں۔ خامنہ ای نے بارہا امریکہ کو ایران کا "نمبر ون دشمن" اور اسرائیل کو بھی قریب ترین دشمن قرار دیا تھا۔


وائرل تصویر کا غور سے مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے یہ ایک اے آئی تصویر ہوسکتی ہے کیوںکہ ملک کے سپریم لیڈر لاش کو ملبہ سے نکالانے کی کوشش کی جارہی اور صرف لاش کے حصہ پر غیرمعمولی روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ صرف ریسکیو ٹیم کے دو ورکروں کے ہاتھوں میں چھوٹے سے ٹارچ لائیٹس نظر آرہے ہیں۔ اسکے علاہ، اطراف میں نہ کوئی سینئر وزیر، حکام یا دیگر فوٹو گرافر یا کیمرہ مین کا سایہ تک دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ہم نے ایران کے ریسکیو ٹیم کے یونیفارم کے بارے میں گوگل سرچ کیا تو ہمیں خاکی رنگ کا یونیفارم ملا جبکہ وائرل تصویر کا یونیفارم رنگ برنگی دکھایا گیا ہے۔


پھرہم نے اپنی جانچ کو آگے بڑھاتے ہوئے تصدیق کیلئے وائرل تصویر کو معروف اے آئی ڈٹیکشن ٹول 'ہائیو ماڈریشن' پر اپلوڈ کیا۔ اس ٹول کے تجزیہ کے مطابق، 99.9 فیصد اس بات کا امکان ہے کہ مذکورہ امیج یا تو اے آئی کی دین ہے یا پھر اس میں ڈیپ فیک مواد شامل ہونے کا امکان ہے۔


اسکے علاوہ ہم نے ایک اور اے آئی جانچ ٹول، 'امیج ویسپرر' کی مدد سے وائرل تصویر کی جانچ پڑتال کی۔ اس ٹول کے تجزیہ میں بتایا گیا ہیکہ وائرل تصویر کی تیاری میں 95 فیصد اے آئی ٹکنالوجی کے استعمال کا امکان ہے۔


میڈیا میں علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد کے حالات سے متعلق 'این ڈی ٹی وی' نے 'چینل 12' کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ "دو اسرائیلی ٹیلی ویژن چینلوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کی ایک تصویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو دکھائی گئی۔" تاہم، ایرانی حکومت کی جانب سے اسکی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔



تحقیق اور اے آئی جانچ ٹولس کی مدد سے یہ واضح ہوگیا کہ فضائی حملے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کی ملبے تلے دبی تصویر حقیقی نہیں بلکہ اے آئی سے بنائی گئی۔ سرکاری طور پر یا معتبر میڈیا کی جانب سے حملے کے بعد کی کوئی بھی تصویر سامنے نہیں آئی ہے۔ لہذا، وائرل تصویر اے آئی ٹول کی تخلیق ہے جسے فرضی دعوے کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے۔

Claim :  اسرائیلی حملے میں جاں بحق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کے ملبے سے برآمد ہونے کی تصویر
Claimed By :  Social Media Users
Fact Check :  Unknown
Tags:    

Similar News