فیکٹ چیک: امریکی لڑاکا طیاروں کا خلیجی ممالک سے لوٹنے والے بھارتی مسافروں کو ایسکرٹ کرنے کا گمراہ کن دعویٰ وائرل
وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی لڑاکا طیارے بھارتی مسافروں کو مشرق وسطیٰ سے بہ حفاظت وطن واپس لائے۔ تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ نیدرلینڈ کی اولمپک ٹیم تھی، بھارتی مسافر نہیں۔ دعویٰ گمراہ کن ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بھارت کی ایئرلائنز کمپنیوں نے اپنی پروازوں کے راستے بدل دئے ہیں اور آہستہ آہستہ خلیجی ممالک سے بھارتی مسافرین کے وطن لوٹنے کا سلسلہ بحال ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عرب ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے ٹرانزٹ لاؤنجز اور ہوٹل لابیوں میں سینکڑوں بھارتی مسافر اس انتظار میں ہیں کہ کب اور کیسے وطن واپس جا پائیں گے۔
6 مارچ 2026 کو انڈیگو ایئرلائن نے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ اور استنبول، ترکی کے لئے آنے اور جانے والی پروازوں کے ٹکٹوں کی منسوخی کے لئے مفت رعایتوں کی آخری تاریخ کو بڑھاکر 31 مارچ کردیا ہے۔
دوسری جانب، بھارتی سفارتی مشنز نے خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے مسافروں کی مدد کے لئے اقدامات تیز کر دئے ہیں۔ مغربی ایشیا کے کچھ حصوں میں فضائی حدود کی عارضی بندش کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر پروازوں میں خلل پڑا، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔
اس درمیان سوشل میڈیا پر پرواز کررہے مسافر بردار طیارہ کے ساتھ سفر کررہے لڑاکا طیارے کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ [ آرکائیو] کررہے ہیں کہ "امریکی لڑاکا طیارے بھارتی مسافروں کو بہ حفاظت بھارت کی فضائی حدود تک پہنچا گئے۔ یہ ہے نئے بھارت کی طاقت"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ درج ذیل ہے۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں شامل ویڈیو اور دعوے کی جانچ پڑتال میں پایا کہ KLM ائِرلائینس کے جس مسافر بردار طیارے کو امریکی لڑاکا طیارہ تحفظ فراہم کررہا تھا اس میں بھارتی مسافر نہیں بلکہ نیدرلینڈ کی اولمپک ٹیم سوار تھی۔
ہم نے اپنی تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے 'ان ویڈ' ٹول کی مدد سے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمس حاصل کئے اور پھر انہیں ایک ایک کرکے گوگل کے ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے سرچ کیا۔ اس طرح ہمیں نتائج میں جو لنکس ملے اس میں 'العربیہ انگلش' کا انسٹاگرام اور ایکس کے پوسٹس بھی شامل تھے۔ اس کے کیپشن کی عبارت کا ترجمہ ہے، "نیدرلینڈز نے ایف-35 لڑاکا طیارے بھیجے تاکہ وہ ڈچ اولمپک ٹیم کی 'کے ایل ایم' پرواز کو رسمی طور پر ایسکرٹ کرتے ہوئے ایمسٹرڈیم پہنچائے۔"
اس جانکاری کی مدد سے ہم نے موزوں کیورڈس کی مدد سے انگریزی اور نیدرلنڈ کی ڈچ زبان میں گوگل سرچ کیا تو ہمیں انگریزی میں 'روئٹرس کنیکٹ' کا 24 فروری 2026 کا لنک ملا جس میں وائرل ویڈیو کی کلیدی فریم سے مشابہ ہائی کوالٹی تصویر ملی۔ اس کا کیپشن ہے۔ "2026 سرمائی اولمپکس کے بعد میلانو کورٹینا سے ایمسٹرڈیم کے لئے روانہ ہونے والے کے ایل ایم مسافر بردار طیارے، جس میں نیدرلینڈز کی ٹیم کے کھلاڑی سفر کر رہے تھے، کو ڈچ فضائی حدود میں داخل ہوتے وقت دو ایف-35 لڑاکا طیاروں نے اعزازی طور پر ایسکرٹ کیا۔"
مزید سرچ کرنے پر ہمیں ڈچ زبان کے نیوز پورٹل 'لوچ وارٹ نیوز' پر بھی اس واقعہ کی رپورٹ ملی۔ اس کے مضمون میں کہا گیا ہیکہ، "ٹیم این ایل یعنی نیدرلینڈ کا پیر کی دوپہر شپہول ایئرپورٹ پر پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ اولمپک کھلاڑی کے ایل ایم کے بوئنگ 737-800 سے نیدرلینڈس واپس آئے اور ایف-35 طیاروں نے انہیں ڈچ فضائی حدود میں ایسکرٹ کیا۔"
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہوگیا کہ وائرل ویڈیو میں خلیجی ممالک سے بھارت لوٹ رہے مسافرین کو لڑاکا طیاروں کے تحفظ کے ساتھ بھارت کی فضائی حدود میں داخلے کو نہیں دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو ایران۔اسرائیل کی جنگ سے قبل، 23 فروری 2026 کا ہے۔ نیدرلینڈ کے فضائیہ نے حالیہ سرمائی اولمپکس میں شاندار مظاہرہ کے بعد ٹیم این ایل کا ایمسٹریم کی فضائی حدود میں داخلے سے ذریعے استقبال کیا۔ لہذا، وائرل ویڈیو میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔