فیکٹ چیک: سانگلی لاٹھی چارج کا فروری 2025 کا ویڈیو اترپردیش کی نماز تراویح سے جوڑکر فرضی دعوے کے ساتھ وائرل

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو اترپردیش میں تراویح کے دوران مسجد کے باہر بجرنگ دل کارکنوں پر پولیس لاٹھی چارج سے جوڑا جارہا ہے۔ جانچ پڑتال میں پایا گیا کہ یہ واقعہ 18 فروری 2025 کو مہاراشٹرا کے سانگلی میں پیش آیا تھا، جس کا مذہبی معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

Update: 2026-03-03 09:36 GMT

اترپردیش کے واراناسی کے چندولی کے علی نگر علاقے میں واقع جامع مسجد کے حافظ صاحب نے ہفتہ کی رات صلوٰۃ تراویح میں مکمل قرآنِ مجید سنانے کی سعادت حاصل کی۔ رمضان کے چاند نظر آنے کے ساتھ ہی مسجد میں تراویح کا آغاز ہو گیا تھا۔ اس مبارک موقع پر ملک میں امن و سکون اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ ماہ رمضان کے پہلے عشرے میں حافظ نور عالم پورے قرآنِ شریف (تیس پارے) کی تلاوت فرمائی۔


اس درمیان سوشل میڈیا پر چند بائیک سوار نوجوانوں پر لاٹھی چارج کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ [آرکائیو] کیا جارہا ہیکہ "مسجد میں تراویح کی نماز ادا کی جا رہی تھی اور مسجد کے باہر پولیس اہلکار حفاظت کے لئے تعینات کئے گئے تھے۔ بجرنگ دل کے کارکنوں نے جب مسجد کے قریب پہنچ کر شوروغل مچایا تو پولیس نے لاٹھی ڈنڈوں سے انکی پٹائی کی۔"


وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔


وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ درج ذیل ہے۔



 



 

Full View

فیکٹ چیک:


تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور ویڈیو کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ یہ ویڈیو اترپردیش میں تراویح کے دوران مسجد کے باہر شرپسندوں پر پولیس کی لاٹھیاں برسانے کا منظر پیش نہیں کررہا ہے بلکہ یہ واقعہ 18 فروری 2025 کو مہاراشٹرا میں پیش آیا تھا۔ سانگلی کی پولیس نے بجرنگ دل کے کارکنوں پر نہیں بلکہ شور مچانے والےعام بائیک سواروں پر لاٹھی چارج کیا تھا۔


تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے جب موزوں الفاظ سے گوگل سرچ کیا تو ہمیں تراویح سے متعلق اترپردیش میں صلوٰۃ تراویح میں تلاوت قرآن پاک کی تکمیل سے متعلق ہندی نیوز پورٹلس پر کچھ خبریں ملی تاہم، نماز تراویح کے دوران مسجد کے باہر ہندو تنظیم کے ممبروں کی ہہنگامہ آرائی اور پولیس ایکشن کے حوالے سے کوئی خبر نہیں ملی۔


پھر ہم نے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمس کی مدد سے گوگل لینس میں سرچ کیا تو ہمیں 19 فروری 2025 کا 'ٹائمس آف انڈیا' کا آرٹیکل ملا۔ اس مضمون میں بتایا گیا ہیکہ، " منگل کی رات تقریباً 2 بجے، سینکڑوں موٹرسائیکل سوار کرناٹک کے سالانہ میلے سے سانگلی واپس لوٹتے وقت زور زور سے ہارن بجاکر علاقہ میں شوروغل مچا رہے تھے۔نتیجے میں پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ اس کارروائی میں تقریباً 45 افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ کئی دیگر اپنی موٹرسائیکلیں وہیں چھوڑ بھاگ کھڑے ہوئے۔


نیوز رپورٹ میں سانگلی رورل پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کرن چوگلے کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے۔ چوگلے نے بتایا کہ"سانگلی شہر میں گھوڑا گاڑی کی دوڑ کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجود کئی نوجوان اپنی گھوڑا گاڑیاں دوڑاتے ہوئے آئے اور ان کے ساتھ چلنے والے بائیک سوار شور مچانے لگے، زور زور سے نعرے لگائے اور ہارن بجانے لگے۔ ہم نے سانگلی میں پولیس بندوبست کیا ہوا تھا اور ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا سوائے لاٹھی چارج کرنے کے تاکہ انہیں روکا جا سکے۔ ہمیں سخت احکامات ملے تھے کہ علاقہ میں ہر قسم کی ہنگامہ آرائی کو روکنا ہے۔ اس شور کی وجہ سے رہائشیوں کی نیند خراب ہورہی تھی اور انہوں نے بھی ان بائیک سواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔"


اس جانکاری کی مدد سے جب ہم نے اپنی تحقیق کا دائرہ بڑھایا تو ہمیں 'سام ٹی وی' کے یوٹیوب چینل بریکنگ نیوز کے نام سے ایک خبر ملی۔ مراٹھی زبان میں ویڈیو کا ٹائیٹل کچھ اسطرح دیا گیا تھا۔ 'سانگلی میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا: صرف چار پولیس اہلکاروں نے ہزاروں شور مچانے والوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔'

Full View

 ہماری جانچ پڑتال میں یہ بات واضح ہوگئی کہ وائرل ویڈیو اترپردیش کا نہیں ہے اور نہ ہی مسجد کے باہر بجرنگ دل کے اراکین کی شوروغل پر پولیس کی لاٹھی چارج کا کوئی واقعہ پیش آیا۔ یہ ویڈیو دراصل کرناٹک کے میلے سے لوٹنے والے مراٹھی نوجوانوں کا ہے۔ رات 2 بجے کے وقت انکے سانگلی علاقہ میں زور زور سے ہارن بجاکر لوگوں کی نیند حرام کرنے پر مقامی پولیس نے مجبورا انکے خلاف ہلکی طاقت کا استعمال کیا اور اس واقعہ کو مذہبی رنگ دیکر فرضی دعوے کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے۔
Claim :  اترپردیش میں مسجد کے باہر تراویح کے دوران بجرنگ دل کارکنوں نے ہنگامہ کیا جس پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا
Claimed By :  Social Media Users
Fact Check :  Unknown
Tags:    

Similar News