فیکٹ چیک: گولڈن ٹیمپل سروور کی بے ادبی کرنے والے مسلم شخص کو کیا نہنگ گروپ نے معاف کردیا۔ جانئے پوری حقیقت
وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گولڈن ٹیمپل میں وضو کرنے والے مسلمان شخص کومعمولی سزا دے کر معاف کردیا گیا- تاہم، فیکٹ چیک سے واضح ہوا کہ یہ ویڈیو غیر متعلقہ ہے اوریہ گرو گوبند سنگھ کے خلاف توہین آمیز تبصرے کا ویڈیو ہے۔
حالیہ دنوں میں امرتسر کے ہرمندر صاحب یا گولڈن ٹیمپل کے ہولی پونڈ میں ایک مسلم شخص کے وضو کرنے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ کسی بھی مسلمان کیلئے نماز کی ادائیگی سے قبل وضو کرنا یعنی پانی سے طہارت حاصل کرنا واجب ہے۔
وضو عام طور پر بہتے ہوئے پانی میں کیا جاتا ہے یا اس کے لئے نکاسی کا انتظام ہوتا ہے، جبکہ گردوارے کے سروور کا پانی رکا ہوا ہوتا ہے، اس لئے اسے صرف رسمی غوطہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور گردوارے میں داخل ہونے سے پہلے ہاتھ اور پاؤں دھونے کے لئے علیٰحیدہ انتظام موجود ہے۔ وضو میں ناک جھاڑنا اور کُلّی بھی کرنا ہوتا ہے۔ مسلم شخص کی جانب سے سروور کے پانی میں اس عمل کی انجام دہی پر سکھ برادری میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور برادری نے اس عمل کو سکھوں کے مقدس مقام کی بے ادبی قرار دیا۔
اس درمیان سوشل میڈیا پر سکھ برادری کے لوگوں کا ایک دکان میں گھس کر دکاندار کو پیٹنے کا ویڈیو [آرکائیو] وائرل ہورہا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کررہے ہیں کہ گولڈن ٹمپل کے سروور میں وضو کرنے والے مسلم شخص کو سزا دی جارہی ہے۔
دعوے کا متن: " ردعمل میں تاخیر اور سزا میں نرمی برتی گئی۔ کچھ نہنگ اُس مسلمان کی دکان پر پہنچے جس نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل کے پویتر سرور کو اپنے پاؤں دھو کر آلودہ کیا تھا اور جس نے توحید کا پرچم بلند کیا تھا، یعنی "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی وحدہُ لاشریک ہے۔ اس نے معافی مانگی۔ اور نہنگ لوگوں نے اسے معاف کر دیا۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک ی ہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور ویڈیو کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ وائرل یہ ویڈیو گولڈن ٹیمپل واقعے سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس ویڈیو میں سکھ گرو، گرو گوبند سنگھ سے متعلق فیس بک پر توہین آمیز تبصرہ کرنے والے سریش رشی جندل کو دکھایا گیا جس نے بعد میں معافی نامہ جاری کیا۔
کیا ہے گولڈن ٹیمپل کا واقعہ؟
رواں سال 13 جنوری کو امرتسر میں سکھوں کے مذہبی مقام ہرمندر صاحب یا گولڈن ٹیمپل کے سروور میں ایک ٹوپی پہنے مسلم نوجوان کا وضو کرنے اور اسی تالاب سے پانی لے کر کُلی کرنے اور اسے تالاب میں تھوکنے کا واقعہ پیش آیا اور یہ ویڈیو تیزی سےسوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگا۔
اس واقعے کے بعد سکھ برادری کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد پولیس نے ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کو اترپردیش کے شہرغازی آباد سے گرفتار کیا اور پھر ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ اس شخص کی شناخت سبحان رنگریز کے طور پر کی گئی ہے۔ انڈیا ٹی وی کے مطابق، ملزم کو امن خراب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
یہاں ملزم سبحان رنگریز کی معذرت کا ویڈیو دیکھا جاسکتا ہے۔
یہاں وائرل ویڈیو میں دکھائے گئے مبینہ مسلم کی تصویر اور گرفتار شدہ مسلم سبحان رنگریز کی تصویر کا موازنہ دیکھا جاسکتا ہے۔
اس سے پتہ چلا کہ وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا شخص گولڈن ٹیمپل واقعہ کا ملزم نہیں ہے۔ پھر ہم نے InVID ٹول کی مدد وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمس اخذ کئے اور انہیں ایک ایک کرکے گوگل کے ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے سرچ کیا۔
ہمیں جو نتائج ملے ان میں سکھوں کی خبروں سے متعلق ایکس ہینڈل 'آواز قوم' پر 27 دسمبر 2025 کا ایک پوسٹ ملا جس میں وائرل ویڈیو کو شِیئر کرتے ہوئے کہا گیا ہیکہ، "سکھ برادری کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر گرو گوبند سنگھ جی اور سکھ برادری کے خلاف اشتعال انگیز اور توہین آمیز تبصرے پوسٹ کرنے پر مالیرکوٹلہ، پنجاب کے ہندوتوا کے حامی سریش رشی کو انتباہ دیا جس کے بعد اس نے تحریری طور پر معافی مانگی۔"
مزید تحقیق کرنے پر ہمیں انسٹا گرام پر پنجابی نیوز کے پیج 'روزنامہ اسپوکس مین' پر 28 دسمبر 2025 کا پوسٹ ملا جس کا کیپشن ہے، "اس نے گرو گوبند سنگھ جی کے بارے میں غلط الفاظ کا استعمال کیا اور سکھوں نے اسکی عقل ٹھکانے لگادی اور پھر وہ ہاتھ جوڑکر معافی مانگنے لگا۔" 'دکن کے 'سالار نیوز' ادارے نے بھی اس ویڈیو کو شئیر کیا تھا۔ 'ون انڈیا پنجابی' نیوز چینل نے بھی اس واقعہ کی رپورٹ یوٹیوب پر اپلوڈ کی ہے۔
تحقیق سے واضح ہوگیا کہ وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا شخص گولڈن ٹیمپل کے ملزم سے مختلف ہے۔ یہ واقعہ امرتسر کے مذہبی مقام سے دو ہفتے پہلے پیش آیا تھا۔ سبحان رنگریز کو ہرمندر صاحب کے سروور کے تالاب کی بے ادبی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے، تاہم کچھ سوشل میڈیا صارفین غیر متعلقہ شخص اور واقعہ کے پرانے ویڈیو گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کررہے ہیں۔