فیکٹ چیک: AIMIM کی خاتون لیڈر کی جانب سے 'محمد دیپک' کے استقبالیہ کی وائرل تصویر دراصل اے آئی سے تیار کی گئی ہے

وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ AIMIM لیڈر روبینہ نے محمد دیپک کا استقبال کیا۔تحقیق سے پتہ چلا کہ وائرل تصویر حقیقی نہیں بلکہ اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔

Update: 2026-02-19 06:29 GMT

"میرا نام محمد دیپک ہے۔" یہ جملہ آج ملک کے تمام شہریوں کو ذہن نشین ہوگیا ہے۔ اتراکھنڈ کے کوٹ دوار کے شہری دیپک کمار، جو اب 'محمد دیپک' کے نام سے جانے جاتے ہیں، ہندوتوا فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد میں امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔


چند ہفتوں قبل انہوں نے ایک 71 سالہ مسلم دکاندار کو شدت پسند بجرنگ دل کے کارکنوں سے بچایا تھا۔ دیپک کمار نے تقریباً 150 افراد کے ہجوم کا تن تنہا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے والی تنظیم کے کارکنوں کو پیچھے ہٹنے کیلئے مجبور کیا۔ تاہم، جاتے جاتے انہوں نے جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیوں کر اس مسلم بزرگ کی حمایت کررہے ہیں اور ان کا نام کیا ہے۔ جواب میں دیپک نے کہا کہ "میرا نام محمد دیپک ہے۔" دیپک کی شدت پسند ہندو تنظیم کے کارکنوں سے جھڑپ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دیپک کمار کو "سیکولر بھارت کا آئیکون" اور "بھارت کی گنگ جمنی تہذیب کا پوسٹر بوائے" قرار دیا گیا تو دوسری جانب انہیں ہندو مذہب کا غدار کہا گیا اور موت کی دھمکیاں بھی ملیں۔


اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد دیپک کمار سے کئی بااثر ہستیاں ملاقات کررہی ہیں اور ان ملاقاتوں کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہے ہیں۔ ایسے میں دیپک کی ایک تصویر [آرکائیو] وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں ایک برقعہ پوش خاتون سے گلدستہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے کچھ صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ کل ہند مجلسِ اتحاد المسلمین (AIMIM) کی خاتون صدر روبینہ نے 'محمد دیپک کمار' کا استقبال کیا۔ وائرل پوسٹ کے کیپشن میں یہ بھی لکھا گیا ہیکہ "آج دیپک بھائی کا جنم دن ہے، مبارکبادی کا سلسلہ رکنا نہیں چاہئے۔"


وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔

وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔



 




فیکٹ چیک:


تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ وائرل تصویر دراصل آرٹی فیشئل انٹلی جنس ٹول سے تیار کی گئی ہے اور دیپک کا کسی مجلسی خاتون لیڈر سے ملاقات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔ تاہم، ایم آئی ایم کی دہلی اکائی کے جنرل سیکٹری 'منظر شعیب' کا 7 فروری کا پوسٹ ملا جس میں انہیں دیپک کمار سے ملاقات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔


Full View

تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے جب ہم نے وائرل تصویر کو گوگل کے ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے سرچ کیا تو ہمیں 'شبانہ پروین' نامی فیس بک صارف کا 4 فروری کا پوسٹ ملا جس میں وائرل تصویر سے میل کھاتی دیپک اور ایک باحجاب خاتون کی تصویر شیئر کی گئی ہے۔ جب ہم نے اس تصویر کو بڑی کرکے دیکھا تو اس میں ہمیں گوگل کے جیمنائی اے آئی ٹول کا واٹر مارک نظر آیا۔ وائرل تصویر میں آپ یہاں جیمنائی ٹول کا واٹر مارک واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔


اپنی جانچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے تصدیق کیلئے وائرل تصویر کو معروف اے آئی ڈٹیکشن ٹول 'ہائیو ماڈریشن' پر اپلوڈ کیا۔ اس ٹول کے تجزیہ کے مطابق، 94.4 فیصد اس بات کا امکان ہے کہ مذکورہ امیج یا تو اے آئی کی دین ہے یا پھر اس میں ڈیپ فیک کا مواد شامل ہونے کا امکان ہے۔



پھر ہم نے ایک اور اے آئی جانچ ٹول، 'سائیٹ انجن' پر وائرل تصویر کی جانچ کی۔ اس ٹول کے تجزیہ میں بتایا گیا ہیکہ وائرل تصویر کی تیاری میں 93 فیصد اے آئی ٹکنالوجی کے استعمال کا امکان ہے۔




 

تحقیق اور اے آئی جانچ ٹولس کی مدد سے یہ واضح ہوگیا کہ اتراکھنڈ کے دیپک کمار عرف محمد دیپک نے ایم آئی ایم دہلی کے لیڈر سے ملاقات ضرور کی تھی تاہم روبینہ نامی پارٹی کی کسی باحجاب خاتون لیڈر نے گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال نہیں کیا۔ وائرل تصویر اے آئی ٹول کی مدد سے تیار کی گئی ہے جسے فرضی دعوے کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے۔

Claim :  ایم آئی ایم کی خاتون صدر روبینہ نے محمد دیپک کا استقبال کیا اور انہیں گلدستہ پیش کیا
Claimed By :  Social Media Users
Fact Check :  Unknown
Tags:    

Similar News