Fact Check: دفتر میں فائلوں کی جانچ کرتے دکھائے گئے بندر کا ویڈیو ایودھیا کا نہیں ہے

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر جھوٹے دعووں کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے کہ ایک بندر ایودھیا میں رام مندر کے اندراج کی تصدیق کے لئے سرکاری محکمہ میں فائلوں کی جانچ کر رہا ہے۔

Update: 2024-02-07 07:00 GMT


رام مندر اور اسکے افتتاح کو لیکر سوشل میڈیا میں بے شمار جھوٹی خبریں سامنے آئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بندر کا ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں جانور کو کسی دفتر میں بیٹھے فائلوں اور دستاویزات کو چیک کرتے ہوئے دکھاکر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایودھیا میں رام مندر کے رجسٹریشن کے اسٹیٹس کی جانچ کر رہا ہے۔

تلگو میں دعوی – “అయోధ్యలో రామ మందిరం పేరు రిజిస్ట్రేషన్ అయిందా లేదని చూస్తున్న హనుమంతుడు జై శ్రీరామ్” ترجمہ: بندر (ہنومان) ایودھیا [کے سرکاری محکمے] میں رام مندر کا رجسٹریشن چیک کر رہا ہے۔

Full View


Full View

فیکٹ چیک:

یہ دعویٰ غلط ہے۔ یہ ویڈیو نہ تو حالیہ دنوں کا ہے اور نہ ہی ایودھیا کا ہے۔

اس معاملے کی جانچ کیلئے جب ہم نے ویڈیو سے نکالے گئے کلیدی فریمز کو استعمال کرتے ہوئے ریورس امیج سرچ کیا تو ہمیں اکتوبر 2023 میں پوسٹ کردہ ایک یوٹیوب ویڈیو ملا جس کا عنوان تھا 'ٹرینڈنگ| منکی چیک فائلس ایٹ گورنمنٹ آفیس، اگنورس بناناس'

Full View

یہ ویڈیو 14 اکتوبر، 2023 کو India Today نے اس ڈسیکریپشن کے ساتھ پوسٹ کیا تھا۔ "اتر پردیش کے سہارنپور میں ایک دفتر میں ایک بندر کا فائلوں کے بکھیردینے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میز پر بیٹھا بندر ایک رجسٹر کے صفحات کو پلٹ رہا ہے۔ لوگوں کی جانب سے اس بندر کو موز دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، لیکن وہ کیلے لینے سے انکار کردیتا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ یہ تحصیل بیہٹ میں کسی سرکاری ایجنسی کا دفتر ہو سکتا ہے۔ تاہم، سہارنپور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) دیپک کمار نے واضح کیا کہ وائرل ویڈیو کسی سرکاری دفتر کا نہیں ہے۔ کمار نے کہا، 'بندر بیہٹ تحصیل علاقے میں ایک وکیل کے چیمبر میں داخل ہوکر ایک میز پر بیٹھ گیا تھا۔ اے ڈی ایم نے مزید کہا کہ یہ بندر علاقے میں اکثر دکھائی دے رہا تھا اور انہوں نے محکمہ جنگلات اور پولیس عہدیداروں کو اس بارے میں مطلع کردیا تھا۔

News 18 نے بھی اس واقعہ کو رپورٹ کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ واقعہ اکتوبر 2023 میں اتر پردیش کے سہارنپور میں پیش آیا تھا۔

لہٰذا وائرل ویڈیو حالیہ دنوں کا نہیں ہے اوراس میں ایک بندر کو ایودھیا میں رام مندر کی رجسٹریشن فائلوں کو چیک کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو پرانا ہے اور اس میں ایک بندر کو ایک وکیل کے دفتر میں اخل ہوتے اور فائلوں کے اوراق پلٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔

Claim :  A monkey is checking the registration files in Ayodhya to know if the Ram Temple is registered or not
Claimed By :  Facebook Users
Fact Check :  False
Tags:    

Similar News