فیکٹ چیک: گجرات پولیس کی قتل کے ملزم کی پٹائی کا ویڈیو آسام میں بنگلہ دیشی امیگرنٹس کی مرمت کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ وائرل

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں آسام کے غیر قانونی امیگرنٹس کی پٹائی کا دعویٰ کیا گیا، مگر حقیقت میں یہ ویڈیو گجرات کے بنس کانٹھا ضلع میں قتل کے ملزم کی پولیس کارروائی سے متعلق ہے

Update: 2026-01-05 18:27 GMT

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ فارنرز ٹریبونلز کی جانب سے غیر دستاویزی امیگرنٹس کو غیر ملکی قرار دئے جانے کے ایک ہفتے کے اندر انہیں بنگلہ دیش واپس بھیج دیا جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت کو اس کے لئے نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان کسی واپسی کے معاہدے کی "ضرورت نہیں" ہے۔


سرما نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ گزشتہ تین مہینوں میں آسام حکومت نے 2 ہزار غیر دستاویزی امہگرنٹس کو جبرا بنگلہ دیش بھیج دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پالیسی 1950 کے "امیگرنٹس ایکسپلشن فرم آسام ایکٹ" کے دوبارہ نافذ ہونے کے بعد اپنائی گئی۔


اس درمیان، سیول پوشاک پہنے پولیس افسران کی جانب سے بیچ سڑک ایک نوجوان پر لاٹھیاں برسائے جانے کا ویڈیو [آرکائیو] سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ اس ویڈیو کو صارفین شئیر کرتے ہوئے دعویٰ کررہے ہیں کہ "آسام میں بنگلہ دیشیوں کا بہت ہی زبردست طریقے سے علاج [پٹائی] جاری ہے۔"


وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔

وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔



Full View




فیکٹ چیک:


تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور ویڈیو کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ یہ ویڈیو آسام کا نہیں بلکہ گجرات کا ہے اور جس نوجوان کی پٹائی کی جارہی ہے وہ کوئی غیر قانونی بنگلہ دیشی ایمگرنٹ نہیں بلکہ ایک ملزم ہے۔


سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کا بغور مشاہدہ کیا۔ اس ویڈیو میں ہندی متن کے ساتھ میں گجراتی زبان میں 'پالن پور میڈیا' کا لوگو شامل ہے اور 38۔0 سکنڈ پر قریب کی عمارت پر گجراتی زبان میں کچھ تحریر دکھائی دی


 

پھر ہم نے اس جانکاری کی مدد سے گوگل سرچ کیا تو ہمیں 27 دسمبر 2025 کا نیوز18 گجراتی کا لنک ملا جس میں شامل ویڈیو وائرل ویڈیو سے میل کھاتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہیکہ پولیس نے بنس کانٹھا ضلع کے پالن پور میں حالیہ دنوں میں ہوئے بھارت چودھری کے قتل کے معاملے میں گرفتار اہم ملزم کو بیچ سڑک اچھی طرح سبق سکھایا۔



دیگر میڈیا کے اداروں نے بھی اس معاملے کو رپورٹ کیا ہے۔ بھاسکر انگلش نیوز ویب سائیٹ کے مطابق، 20 دسمبر کو پالن پور کے رام دیو ہوٹل کے قریب چند نوجوانوں پر درجن سے زائد حملہ آوروں نے تلواروں، لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں سے حملہ کردیا۔ اس حملے میں بھارت چودھری موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ نیتن چودھری شدید زخمی ہوگیا۔ اس حملے کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے اہم ملزم بھارگو منڈورہ عرف لالو مالی کو راجستھان کے اودئے پور سے گرفتار کیا۔ اسکے علاقہ پولیس پانچ دیگر ملزمین کو بھی حراست میں لیا ہے۔ 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 27 دسمبر کی صبح پولیس نے 6 ملزمین کی مدد سے پالن پور کے ایرومہ سرکل پر قتل کی واردات کا نقشہ کھینچا اور اس بیچ ان کی جم کر پٹائی بھی کی۔ جیسے ہی اس کی خبر پھیلی، وہاں عوام کا ہجوم جمع ہوگیا اور لوگوں نے 'ملزمین کو پھانسی دو' کے نعرے لگائے۔



جب ہم نے پالن پور میڈیا کے سوشل میڈیا کے ہینڈل سرچ کئے تو ہمیں اسکے فیس بک پیج پر وائرل ویڈیو ملا۔ اس کے کیپشن میں بتایا گیا ہیکہ پولیس نے سڑک پر اہم ملزم بھارگو منڈورہ کی خوب پٹائی کی اور لوگوں نے ملزم کو پھانسی کے تختے پر لٹکانے کی مانگ کی۔

Full View

تحقیق سے واضح ہوگیا کہ وائرل ویڈیو آسام میں غیر قانونی امہگرنٹس کی پٹائی کا نہیں بلکہ گجرات کے بنس کانٹھا ضلع میں ایک قتل کی واردات کی منظر کشی کے دوران پولیس نے ملزمین پر ڈنڈے برسائے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

Claim :  آسام میں غیر قانونی بنگلہ دیشی امیگرنٹس کی اچھی طرح مرمت کی جارہی ہے
Claimed By :  Social media users
Fact Check :  Unknown
Tags:    

Similar News