خبردار : بھارت میں اب ایک نیا گھوٹالہ، کوریئر گھوٹالہ

ہوشیار: اس سال ملک میں ایک نیا گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ اس اسکام میں دھوکہ باز مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے متاثرین سے لاکھوں روپے لوٹ رہے ہیں۔ اسے کوریئر گھوٹالا کہا جاتا ہے۔

Update: 2023-12-02 16:00 GMT


اس سال بھارت میں ایک نیا گھوٹالہ سامنے آیا ہے، جس میں دھوکہ باز افراد مختلف شہروں کے متاثرین سے لاکھوں روپے لوٹ رہے ہیں۔ اس قسم کے گھوٹالہ کو کوریئر گھوٹالہ کا نام دیا گیا ہے جس میں بدمعاش خود کو پولیس افسر، کسٹم افسر یا NCRB ایجنٹ کے طور پراپنا تعارف کرواتے ہیں، اورلوگوں پر منشیات اور دیگر ممنوعہ مادوں پر مشتمل پارسل حاصل کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

دھوکہ باز متاثرین کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ پولیس ان کے خلاف کارروائی کرنے جا رہی ہے اور ان کے خلاف مبینہ طور پر درج شکایات کو حل کرنے کے لئے ان سے جبرا وصولی شروع کر دیتے ہیں۔

کئی معاملات میں، دھوکہ بازی کا سلسلہ ایک مسڈ کال سے شروع ہوتا ہے. جب وہ شخص اس نمبر پر واپس کال کرتا ہے تو ، اسے ایک automated voice message پر فارورڈ کیا جاتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک کوریئر کمپنی کی ہیلپ لائن پر پہنچ گیا ہے۔ پھر ایک شخص خود کو پولیس افسر یا کسٹم افسر کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے متاثرین کو پریشان کرنے کے لئے نفسیاتی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے اوراس شخص کی ذاتی معلومات جیسے آدھار نمبر اور دیگر شناختی اور بینک تفصیلات حاصل کرتا ہے اور انہیں لوٹتا ہے۔

بنگلورو کے رہنے والے 66 سالہ دیباشیش داس حال ہی میں کوریئر گھوٹالے کا شکار ہوئے اور 1.52 کروڑ روپےکی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہیں 10 نومبر کو ایک شخص کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوا اور کالر نے خود کو فیڈ ایکس ملازم بتایا۔

کالر نے متاثرہ شخص کو بتایا کہ ان کے خلاف ممبئی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ ان کے نام پر تائیوان سے بھیجے گئے کوریئر میں چھ کریڈٹ کارڈ، expired پاسپورٹ اور MDMA منشیات پائی گئی ہیں۔ متاثرہ کو اندھیری سائبر کرائم پولیس اسٹیشن سے اسکائپ کال پر رابطہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس کے بعد دھوکہ بازوں نے خود کو پولیس افسر ظاہر کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ان کے بینک کھاتوں میں غیر قانونی سرگرمیاں پائی گئی ہیں ۔ اس کے بعد دھوکہ باز متاثرہ کی 1.52 کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ سمیت تمام رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس سال بنگلورو میں کوریئر فراڈ سے متعلق 250 معاملے سامنے آئے ہیں۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ جون 2023 میں ایک سافٹ ویئر انجینئر اور اس کی بیوی، جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلورو میں فیکلٹی ہیں، سائبر فراڈ کا شکار ہو ئے تھے ۔ اس معاملے میں جعلی پولیس اہلکار اور کورئیر سروس کے افراد شامل تھے۔ ان دھوکہ بازوں کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے سافٹ وئِیر انجینئر نے 33 لاکھ روپئے کی رقم گنوادی۔

گزشتہ ہفتے بنگلوروکی پولیس نے اعلان کیاکہ ان معاملوں کے ساتھ ساتھ تین دیگر قسم کے کیسس عام سائبر فراڈ – آدھار سے متعلق پیمنٹ فراڈ (116 معاملے)، واٹس ایپ کے ذریعے جنسی جبرن وصولی (115 معاملے) اور آن لائن جاب فراڈ (4,607 معاملے) کی جانچ کو ترجیح دی جائے گی۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک خاتون جو ہائی کورٹ کے ایک ملازم کی بیٹی ہے، کو بھی ممبئی سے کسٹم افسر کے طور پر ایک شخص کا فون آیا۔ اس نے اسے دھمکی دیتےہوئے اس سے 30 ہزار روپئے کا مطالبہ کیا۔ متاثرہ کی جانب سے credentials شئیر کرنے پر اس نے 19 لاکھ روپے لوٹ لیے۔

تلنگانہ اسٹیٹ سائبر سیکورٹی بیورو نے بھی ایک پوسٹ شیئر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 'کوریئر گھوٹالے' سے ہوشیار رہیں۔

پارسل ڈلیوری کے بارے میں غیر مطلوبہ کالز یا پیغامات سے محتاط رہیں جن کے بارے میں آپ کو کوئی علم نہیں ہے۔

ارجنٹ فون کالس کا جواب نہ دیں اور نہ ہی دباؤ میں آکر کال کرنے والے کے مطالبات کو پورے کریں۔ تحمل سے کام لیں.

فوری مدد کے لئے #Dial_1930 پرڈائیل کریں۔ #TSCSB # CourierScam

Full View

فوربس انڈیا نے شائع کیا ہے کہ پارسل گھوٹالے کے نام سے ایک اور انتہائی ترقی یافتہ سائبر کرائم اسکینڈل گردش کررہا ہے۔ 7 ستمبر 2023 کو اسکام الرٹ' کے عنوان سےاایک ویڈیو پوسٹ کیا گیا تھا۔ نئے پارسل یا کوریئر گھوٹالے میں لاکھوں روپے کھونے سے بچیں۔

Full View

ہم سب کو محتاط اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ان دھوکہ بازوں کا شکار نہ ہوں۔

Tags:    

Similar News