فیکٹ چیک: بنگلورو ٹریفک پولیس اہلکار کی بائیک سوار کے ساتھ بدسلوکی کا ویڈیو گمراہ کن دعووں کے ساتھ وائرل
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو دہلی اور یوپی کا بتایا جارہا ہے، مگر تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ واقعہ بنگلورو کا ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پولیس اہلکار نے بائیک سوار کو تھپڑ جڑدیا

Claim :
یہ ویڈیو دہلی یا اترپردیش کا ہے جہاں ٹریفک پولیس اہلکار شہریوں پر ہاتھ اٹھا رہا ہےFact :
بائیک سوار کو تھپڑ مارنے کا وائرل ویڈیو دہلی یا یوپی کا نہیں بلکہ بنگلورو کا ہے
گذشتہ برس ستمبر میں گجرات کے احمد آباد میں ایک مصروف جنکشن پر ٹریفک کانسٹیبل کی جانب سے ایک خاتون موٹرسائیکل سوار بنسری ٹھکر نامی خاتون کو تھپڑ مارنے کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل دیا تھا۔ محکمہ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد قصوروار کانسٹیبل جینتی بھائی زالا کو معطل کر دیا۔
اس درمیان، ٹریفک پولیس اہلکار کی طرف سے بائیک سوار کو تھپڑ مارنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا جارہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ [آرکائیو] ہیکہ "یہ ویڈیو دہلی کا ہے، جہاں ٹریفک چیکنگ کے دوران عام شہریوں کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی اور ان پر ہاتھ اٹھانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔" دیگر صارفین نے اسے اترپردیش کا واقعہ [آرکائیو] بتایا ہے۔
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور ویڈیو کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ ٹریفک پولیس کی بدسلوکی کا ویڈیو نہ دہلی اور نہ اترپردیش کا بلکہ بنگلورو کا ہے، جسے گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔
سب سے پہلے InVID ٹول کی مدد سے ہم نے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمس اخذ کئے اور پھر ایک ایک کرکے ان فریمس کو گوگل کے ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے سرچ کیا۔ اس طرح جو نتائج ملے ان میں ہمیں 16 اکتوبر 2025 کا 'زی نیوز' کا مضمون ملا جس میں وائرل ویڈیو سے ملتے جلتے اسکرین شاٹس استعمال کئے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہیکہ یہ واقعہ بنگلورو کا ہے اور یہ بھی بتایا گیا کہ "یہ ویڈیو مبینہ طور پر ایک راہگیر نے ریکارڈ کیا ہے، جس میں ایک ٹریفک پولیس اہلکار کو ایک موٹرسائیکل سوار کو مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ بنگلورو کے کسی نامعلوم مقام کا ہے۔ اس واقعے کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے کیونکہ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہیں۔"
ان نتائج میں ہمیں ٹائمس آف انڈیا کا ایک فیس بک پوسٹ ملا جس میں وائرل ویڈیو کے ساتھ شامل متن میں یہ تحریر ملی۔ " بنگلورو کے ماڈیوالہ کے ٹریفک پولیس کانسٹیبل کو اسلئے معطل کر دیا گیا کیونکہ اس نے مبینہ طور پر سڑک کے رانگ سائیڈ سے گاڑی چلانے پر ایک بائیک سوار کو تھپڑ مارا اور ساتھ ہی اس پر 500 روپئے جرمانہ بھی عائد کیا۔"
انگریزی نیوز چینل 'نیوز نائین' نے بھی اس واقعے کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ "بنگلورو کے سلک بورڈ جنکشن کے قریب ایک نوجوان کو تھپڑ مارنے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بنگلورو کے ایک ٹریفک پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہلکار نے بائیک سوار کو غلط سمت میں گاڑی چلانے پر روکا، جس کے بعد دونوں میں بحث ہوگئی تھی۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس، ٹریفک - ساوتھ نے تادیبی کارروائی کی تصدیق کی اور یہ بھی کہا کہ جوابدہی اور احترام دونوں کا خیال رکھنا چاہئے۔" اگلی ٹوئیٹ میں پولیس افسر نے بتایا کہ قصوروار اہلکار کو معطل کردیا گیا ہے۔
تحقیق سے واضح ہوگیا کہ وائرل ویڈیو بنگلورو کے ٹریفک پولیس کا ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر اہلکار نے بائیک سوار کو تھپڑ ماردیا تھا۔ اس واقعہ کو دہلی اور اترپردیش سے جوڑ کر من گھڑت دعوے کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

