فیکٹ چیک: آسام میں مولانا کی بچوں کو لنگی پہن کر فٹبال کھیلنے کی تلقین کا ویڈیو دراصل بنگلہ دیش کا ہے
ویڈیو آسام کا نہیں بلکہ بنگلہ دیش کا ہے، اور اس میں ایک یوٹیوبر مولانا بچوں کو نرمی سے اسلامی اقدار کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں

Claim :
آسام میں ایک مولانا بچوں کو چڈھی پہن کر کھیلنے سے منع کررہے ہیںFact :
یہ ویڈیو آسام کا نہیں بلکہ بنگلہ دیش کا ہے جس میں بچوں کو اسلامی تعلیم اوراقدار سے روشناس کرانے کے لئے بنایا گیا ہے
کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں سے متعلق کئے گئے متنازعہ ریمارکس پر سخت تنقید کی ہے۔ بورڈ نے ان ریمارکس کو غیر آئینی، پھوٹ ڈالنے والے اور سماجی ہم آہنگی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ بورڈ نے سپریم کورٹ سے اس معاملے پر از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے مناسب آئینی کارروائی پر غور کرنے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو اکثر 'میاں' کہہ کر بلایا جاتا ہے جبکہ بی جے پی انہیں 'غیر قانونی درانداز' مانتی ہے۔
اس سے قبل، وزیر اعلیٰ شرما نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ، "میاں مسلمانوں کو کسی بھی طریقے سے پریشان کرو۔ اگر انہیں پریشانی ہوگی تو وہ آسام سے چلے جائیں گے۔ اگر میں میاں کو پریشان کرنا چاہوں تو رات 12 بجے بھی جا سکتا ہوں، یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم کھل کر میاں مسلمانوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم کچھ نہیں چھپاتے؛ ہم کھل کر کہتے ہیں کہ ہم میاں کے خلاف ہیں۔"
اس درمیان، سوشل میڈیا پر ایک کھیل کے میدان میں ایک مولانا کی بچوں سے بات چیت کا ویڈیو وائرل کرتے ہوئے دعویٰ کیا جارہا ہیکہ "آسام میں ایک 'میاں' مولانا بچوں کو چڈھی پہن کر کھیلنے سے گریز کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں کیوں کہ اس سے جسم کا باقی حصہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہی نہیں یہ ان بچوں کو لنگی پہن کر کھیلنے کیلئے کی تلقین کررہے ہیں۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔ ایک اور دعویٰ اور آرکائیو۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ یہ ویڈیو آسام کا نہیں بلکہ بنگلہ دیش کا ہے۔ وائرل ویڈیو میں ایم کے رحمان نامی یوٹیوبر کو دکھایا گیا ہے جنہیں اپنے ویڈیوس میں بچوں کو اسلامی اقدار اور اخلاقیات سے واقف کرواتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو کا مشاہدہ کرنے پر پتہ چلتا ہیکہ ایک خوشگوار ماحول میں بچے چڈھی پہن کر فٹ بال کھیل رہے ہیں اور وہاں ایک مولانا پہنچ کر مقامی بچوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ روایتی لباس پائجامہ یا لُنگی پہن کر فٹبال کھیلیں اور روایتی لباس کو کھیل میں رکاوٹ نہ بنائیں۔
جب ہم نے وائرل ٹوئیٹ کے تبصروں کا مشاہدہ کیا تو ہمیں ایک ٹوئیٹ ملا جس میں بتایا گیا ہیکہ یہ ویڈیو 'آسام کا نہیں بلکہ بنگلہ دیش کا ہے۔'
پھر ہم نے InVID ٹول کی مدد سے وائرل ویڈیو کی کلیدی فریمس اخذ کئے اور انہیں ایک ایک کرکے گوگل ریورس امیج سرچ ٹول سے گذارا تو ہمیں کچھ لنکس ملے جن میں ہمیں یوٹیوب شارٹس کا ایک لنک ملا جو وائرل ویڈیو سے میل کھاتا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ میدان میں موجود بچوں سے کہہ رہے ہیں کہ کھیلتے وقت وہ روایتی لباس جیسے مقامی پہناوا لنگی یا کرتا پائجامہ پہنیں اور اسلامی اقدار کا پاس و لحاظ رکھیں۔
یہ ویڈیو 28 جنوری 2026 کو بنگلہ دیش کے یوٹیوب چینل "ایم کے رحمان آفیشئل" پر پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس چینل کے ڈسکریپشن میں بتایا گیا ہیکہ "یہ ایک تعلیمی یوٹیوب چینل ہے، جہاں ہم بچوں کے لئے اسلامی تعلیم، اچھے آداب و اطوار، نماز، روزہ اور اخلاقی تربیت پر مبنی مختصر ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم حقیقی زندگی کے واقعات کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جیسے بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا، اسلامی علم کو عام کرنا، اور انسانی اقدار کا عملی نفاذ۔ ہمارا مقصد ہے کہ اسلامی تعلیم کو آسان، رواں اور زندگی سے جُڑا ہوا بنا کر سب تک پہنچایا جائے۔ تعلیم، انسانیت اور اسلامی اقدار کا سنگم — یہی ہے "ایم کے رحمان آفیشل۔"
اس یوٹیوب چینل کے 144 ہزار سبسکرائبرس ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک فیس بک پیج بھی جس کے بائیو میں بتایا گیا ہیکہ وہ بنگلہ دیش کے'بھولا ضلع' کے رہنے والے ہیں۔
ایم کے رحمان کے یوٹیوب چینل پر بچوں کے ساتھ یوٹیوبر کی شفقت اور رحم دلی کے مزید ویڈیوس دیکھے جاسکتے ہیں۔
اسلام میں ستر سے مراد جسم کے ان حصوں کو چھپانا ہے جن کا پردہ واجب ہے، جو مرد کے لئے ناف سے گھٹنے تک اور عورت کے لیے چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کے علاوہ پورا جسم ہے۔ مرد کا ستر ناف کے متصل نیچے سے لے کر گھٹنے تک ہے، گھٹنے ستر میں شامل ہیں،اس حصے کا چھپانا فرض ہے، اس حصے کا بلا ضرورت کھلے رہنا سخت گناہ ہے۔ چونکہ میدان میں مسلم بچے چڈھی پہنے ہوئے تھے اور انکے گھٹنے ظاہر ہورہے تھے، اس لئے یوٹیوبر نے انہیں اسلامی طرز کا لباس پہننے کی نصیحت کی۔
تحقیق سے واضح ہوگیا کہ بچوں میں اسلامی اقدار کو پروان چڑھانے والے ویڈیو کو آسام کا بتاکر گمراہ کن دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہا ہے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعوٰی گمراہ کن پایا گیا۔

