فیکٹ چیک: کیا بہار کے وزیر سیاحت و بی جے پی لیڈر نے دوبئی میں اپنی بیٹیوں کو حجاب پہنایا؟ جانئے پوری حقیقت
وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بہار کے وزیر سیاحت نے دوبئی میں بیٹیوں کو حجاب پہنایا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ تصاویر 2022 میں کیرلہ کے بی جے پی لیڈر کرشنا کمار اور انکی بیٹیوں کی ابو ظہبی جامع مسجد کی ہیں

Claim :
بہار کے وزیر سیاحت اور ہندوتوا کے حمایتی کرشنا کمار نے دوبئی میں اپنی بیٹیوں کو حجاب پہنایاFact :
یہ تصاویر 2022 میں کیرلہ کے بی جے پی لیڈر کرشنا کمار اور انکی بیٹیوں کی ابو ظہبی جامع مسجد کی ہیں، نہ کہ بہار کے وزیر سیاحت کی
گذشتہ چند دن پہلے، کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کا حجاب کو لیکر مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کی مہم کے دوران شولا پور میں دیئے گئے بیان پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت میں وہ دن بھی آئے جب با حجاب خاتون ملک کی وزیر اعظم منتخب ہو۔
اے آئی ایم آئی ایم کے صدر نے شولاپور کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "پاکستان کے آئین میں صاف طور پر درج ہے کہ صرف ایک مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص ہی ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ بابا صاحب (بی آر امبیڈکر) کے آئین میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا کوئی بھی شہری وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا میئر بن سکتا ہے۔ میرا خواب ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب حجاب پہننے والی بیٹی اس ملک کی وزیر اعظم بنے۔"
اویسی کے بیان پر مہاراشٹر کے وزیر اور بی جے پی رہنما نتیش رانے نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے خواب دیکھنے والوں کو اسلام آباد یا کراچی چلے جانا چاہئے۔ ایک اور بی جے پی لیڈر شہزاد پونہ والا نے اسد اویسی کو چیلنج کیا کہ وہ پہلے اپنی پارٹی کی صدر کے طور پر برقعہ پہننے والی خاتون یا کسی 'پسماندہ' مسلمان کو منتخب کریں۔ انہوں نے اویسی کو یہ بھی کہا کہ وہ سیکولرازم پر لیکچر دینا بند کریں اور (زوہران) ممدانی کا مقامی ورژن بننے کی کوشش نہ کریں۔
اس درمیان سوشل میڈیا پر مسجد میں حجاب پہنی بیٹیوں کے ساتھ ایک شخص کی تصویر شیئرکرتے ہوئے دعویٰ [آرکائیو] کیا جارہا ہیکہ، "بی جے پی لیڈر اور بہار کے وزیر سیاحت کرشنا کمار ملک میں ہندوتوا کی باتیں کرتے ہیں اور دوبئی جاکر بیٹیوں کو حجاب پہنایا۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ وائرل تصویر میں بہار کے وزیر سیاحت نہیں بلکہ کیرلہ کے اداکار سے سیاست دان بنے بی جے پی لیڈر کرشنا کمار ہے۔
سب سے پہلے ہم نے جاننے کی کوشش کی کہ بہار کے وزیر سیاحت کون ہیں۔ موزوں کیورڈس کی مدد سے گوگل سرچ کرنے پر معلوم ہوا کہ ریاست کے موجودہ وزیر سیاحت کا نام ارون شنکر پرساد ہیں جنہوں نے 25 نومبر 2025 کو اپنے عہدے کا جائزہ لیا۔ یہاں بہار کے وزیر کو بہار میں سیاحت کو فروغ دینے سے متعلق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
پھر ہم نے وائرل تصویر کو گوگل کے ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے ڈھونڈنے کی کوشش کی تو ہمیں رواں سال 22 جنوری کا 'نیوز ٹوڈے چینل' نامی فیس بک پوسٹ ملا جس میں وائرل تصویر کو شئیر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ، "کیرلہ کے بی جے پی لیڈر کرشنا کمار کی ابو ظہبی کی جامع مسجد میں بیٹیوں کی تصویر منظرعام پر آنے پر سناتنی صارفین نے انہیں شدید ہدف تنقید بنایا۔"
اس جانکاری کی مدد سے مزید گوگل سرچ کیا تو ہمیں مارچ 2022 کا 'جنتا کا رپورٹر' کا مضمون ملا۔ اس آرٹیکل میں بتایا گیا ہیکہ، "بی جے پی نے شاید بھارت میں حجاب کی مخالفت کی ہو، لیکن اس کے ایک سینئر لیڈر نے حال ہی میں ابو ظہبی کے دورے کے دوران اپنی بیٹیوں کی اسلامی لباس تصویر کھںچوائی۔ کرشنا کمار، جن کی سوشل میڈیا بائیو میں انہیں ایک اداکار اور بی جے پی کی نیشنل کونسل کے رکن کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نے فیس بک پر ابو ظہبی کی شیخ زاید جامع مسجد کے اپنے حالیہ دورے کی تصاویر کی ایک سیریز شیئر کی۔"
انگریزی نیوز پورٹل 'کلیاریان انڈیا' نے 19 مارچ 2022 کے مضمون میں کرشنا کمار اور ان کی بیٹیوں کی حجاب پہنی تصویروں کے انٹرنیٹ پر شیئر کئے جانے کی رپورٹ دیتے ہوئے لکھتا ہے، "بی جے پی لیڈر اور اداکار کرشنا کمار نے حال ہی میں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ شیخ زاید جامع مسجد کا دورہ کیا۔ بی جے پی لیڈر کی بیٹیوں کی حجاب میں مسکرانے اور اور فخر محسوس کرنے کی تصویریں انٹرنیٹ صارفین کی توجہ کا مرکوز بن گئی ہیں۔"
اس آرٹیکل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ تصویریں کرشنا کمار کے فیس بک پیج سے لی گئی ہیں۔ اس جانکاری کی مدد سے جب ہم نے کیرلہ بی جے پی لیڈر کے سوشل میڈیا اکاونٹ پر تلاش کیا تو ہمیں 12 مارچ 2022 کا پوسٹ ملا جس میں انہوں نے ابوظہبی کی جامع مسجد کے دوران کی یادگار تصویریں شیئر کرتے ہوئے ملیالم یہ پوسٹ کیا، "سلام بھائیو… گزشتہ دنوں ابو ظہبی کے سفر کے دوران، میں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ شیخ زاید جامع مسجد کا دیدار کیا۔ ہمیں ایک انتہائی خوبصورت، نہایت دلکش اور کافی وسیع عبادت گاہ دیکھنے کا موقع ملا اور میں اسے ایک بڑی سعادت سمجھتا ہوں۔ سب کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہوں… جے ہند۔"
جب ہم نے جامع مسجد کے دورے سے متعلق اسکی آفیشئل ویب سائیٹ دیکھی تو ہمیں انہیں مسجد میں داخلے کے آداب سے متعلق کچھ رہنمایانہ خطوط ملے۔ "مساجد تمام مسلمانوں کے لئے مذہبی اور تقدس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا مسجد کے زائرین کو مخصوص آداب اور اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے اور درج ذیل ہدایات پر عمل کر کے اپنا مکمل احترام ظاہر کرنا چاہیے۔"
اور اسکے ساتھ میں تصویروں کی شکل میں بتایا گیا ہیکہ وزیٹروں کیلئے کس طرح کا ڈریس کوڈ اپنانا چاہئے۔ یوٹیوب پر دستیاب اس ویڈیو میں ڈریس کوڈ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہوگیا کہ وائرل پوسٹ میں بہار کے وزیر سیاحت ارون شنکر پرساد کو نہیں بلکہ کیرلہ کے بی جے پی لیڈر کرشنا کمار اور انکی بیٹیوں کو شیخ زاید جامع مسجد کے دورے کے دوران تصویر کھنچواتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر 2022 کی ہے تاہم سوشل میڈیا صارفین اسے فرقہ وارانہ بیانئے اور فرضی دعوے کے ساتھ وائرل کررہے ہیں۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

