فیکٹ چیک: واراناسی کے پولنگ مرکز کی تصویر، مہاراشٹرا بلدی انتخابات میں مسلم ووٹروں کے ہجوم کے گمراہ کن دعوے کے ساتھ وائرل
مہاراشٹرا بلدی انتخابات میں مسلم ووٹروں کے سیلاب کے دعویٰ کے ساتھ پولنک مرکز کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کی جارہی ہے۔ تحقیق سے واضح ہوا کہ یہ تصویر جون 2024 کے عام انتخابات کے دوران واراناسی میں لی گئی ہے، نہ کہ حالیہ بلدی انتخابات کی۔

Claim :
یہ تصویر مہاراشٹرا کے میونسپل کارپوریشنز کے حالیہ انتخابات کی ہے جہاں مسلم ووٹرز بڑی تعداد میں قطاروں میں نظر آئےFact :
تصویر دراصل جون 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران واراناسی پولنگ بوتھ کی ہے
مہاراشٹرا کے میونسپل کارپوریشنز کے انتخابات میں اسد الدین اویسی کی زیر قیادت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) پارٹی کا شاندار مظاہرہ دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے لمحہ فکریہ ثابت ہورہا ہے۔ بہار اور مہاراشٹرا میں ایم آئی ایم کی مسلسل بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اترپردیش، آسام اور بنگال میں ممکنہ اتحاد کے ساتھ پارٹی کا انتخابات لڑنا، کانگریس کو اپنا علاقائی مسلم ووٹ بینک کمزور ہوتا نظر آرہا ہے۔
حالیہ بلدی الیکشن میں مجلس نے مختلف بلدیاتی اداروں میں کل 125 نشستیں حاصل کیں۔ شولاپور اور مالیگاؤں میں اے آئی ایم آئی ایم بلدیاتی اداروں میں دوسری سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
اس بیچ، سوشل میڈیا پر پولنگ بوتھ کے باہر مسلم مرد و خواتین ووٹروں کی لمبی قطاروں کی تصویر [ آرکائیو] کو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین دعویٰ کررہے ہیں کہ، "شیو سینا کے ادھو ٹھاکرے کی وجہ سے آج 'ووٹَ جہاد' دیکھنا پڑرہا ہے اور پولنگ کے دن ہندو ووٹر اپنے گھروں میں سورہے ہیں۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ یہ تصویر مہاراشٹرا کے میونسپل کارپوریشنز کے حالیہ انتخابات کی نہیں بلکہ 2024 کے لوک سبھا الیکشن کے دوران واراناسی پولنگ بوتھ کی ہے۔
ہم نے اپنی تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے گوگل کے ریورس امیج سرچ کی مدد سے وائرل تصویر کو سرچ کیا تو ہمیں کئی ایک لنکس ملے جن میں نیو یارک سٹی کا 'اسپیکٹرم نیوز این وائی ون' نامی نیوز پورٹل پر یکم جون 2024 کا آرٹیکل ملا جس کی سرخی ہے، "بھارت کے انتخابات کے آخری مرحلے کی ووٹنگ مکمل، مودی کے اقتدار کے دس سال پر ریفرنڈم"۔ اس مضمون کے ساتھ ایک فوٹو گیلری بھی شامل ہے جس میں ملک کے مختلف مقامات کے پولنگ مراکز کے باہر ووٹروں کو دکھایا گیا ہے۔
اس فوٹو گیلری میں 18ویں تصویر، وائرل تصویر سے میل کھاتی ہے۔ اس تصویر کا کیپشن ہے، "1 جون 2024 کو واراناسی میں منعقده بھارت کے قومی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کی پولنگ میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے مسلم ووٹر قطاروں میں کھڑے ہیں۔ بھارتی عوام نے ہفتے کے روز چھ ہفتے طویل قومی انتخابات کے آخری مرحلے میں ووٹ ڈالے۔ یہ الیکشن ہندو قوم پرست وزیرِاعظم نریندر مودی کے دس سالہ اقتدار پر ایک ریفرنڈم مانا جارہا ہے۔"
اس گیلری میں 16 تصویر بھی واراناسی کے اسی پولنگ بوتھ کی ہے اور اس تصویر میں ووٹروں کی قطاروں کو مختلف زاوئے سے دکھایا گیا ہے۔ یہاں ان دونوں تصاویر کا ایک ساتھ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
مزید سرچ کرنے پر ہمیں 'الجزیرہ' کا 10 جون 2024 کے مضمون کا لنک ملا۔ اس تصویر میں شامل کیپشن کی تحریر میں فوٹو گرافر کا نام 'راجیش کمار سنگھ' اور 'ایسو سی ایٹیڈ پریس' یعنی 'اے پی نیوزروم' کو بطور ادارہ بتایا گیا ہے۔
اس جانکاری کی مدد سے جب ہم نے اپنی تحقیق کا دائرہ بڑھایا تو ہمیں 'اے پی' کی تصویر کا لنک ملا۔ اس ویب سائیٹ پر وہی کیپشن تحریر کیا گیا ہیکہ واراناسی کے مسلم ووٹر بھارت کے قومی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کیلئے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے قطاروں میں انتظار کررہے ہیں۔ اسکے علاوہ دی گئی جانکاری کے مطابق، اسٹاف فوٹوگرافر راجیش کمار سنگھ نے یکم جون 2024 کو یہ تصویر کھینچی تھی۔
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہوگیا کہ وائرل تصویر مہاراشٹرا کے بلدی انتخابات کی نہیں بلکہ جون 2024 میں منعقده عام انتخابات کے دوران واراناسی کے کسی پولنگ مرکز کے باہر لی گئی تصویر ہے۔ حالیہ دنوں میں مہاراشٹرا الیکشن میں ایم آئی ایم کی غیر معمولی کامیابی کے پس منظر میں واراناسی کے مسلم ووٹروں کی تصویر کو غلط بیانئے کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

