فیکٹ چیک: کولکتہ–صومالیہ کی مبینہ پرواز کے کریش سے متعلق وائرل دعویٰ گمراہ کن، جانئے اصل حقیقت
وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کولکاتہ سے صومالیہ جانے والا طیارہ حادثے کا شکار ہوا اور تبلیغی جماعت کی مستورات بال بال بچ گئیں۔ تحقیق سے واضح ہوا کہ حادثہ صومالیہ میں ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔

Claim :
کولکاتہ سے صومالیہ جانے والا طیارہ سمندر میں کریش ہوا اور اس میں سوار تبلیغی جماعت کی مستورات بچ گئیں۔Fact :
یہ حادثہ کولکتہ سے نہیں بلکہ موغادیشو سے پرواز کرنے والے طیارے کے ساتھ پیش آیا، اور اس میں تبلیغی جماعت کی مستورات موجود نہیں تھیں۔
چند ہفتوں قبل، مہاراشٹرا ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار ایک دردناک طیارے کے حادثے میں فوت ہوگئے۔ اس حادثے میں چار دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ پوار کے حلقے بارامتی کے ہوائی اڈے پر پوار کا چارٹرڈ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔
اس وقت شہری ہوابازی کے وزیر نے کہا تھا کہ حادثے کے وقت ہوائی اڈے پر دھند چھائی ہوئی تھی۔ حادثے کے فوری بعد ہوابازی کے نگران ادارے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اس درمیان، سوشل میڈیا پر ایک اور طیارہ حادثے کی تصویریں وائرل ہورہی ہیں۔ ان تصویریں کو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعویٰ [آرکائیو] کیا کہ"کولکاتہ سے جنوبی افریقہ کے صومالیہ جانے والا طیارہ سمندر میں کریش ہوا لیکن الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلی مستورات کی جماعت کے ایک رکن کو بھی خراش نہیں آئی۔ تو یہ ہمارا یقین ہے کہ جو اللہ کے راستے میں نکلے گا، اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ درج ذیل ہے۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے کی جانچ پڑتال میں پایا کہ یہ طیارہ حادثے کا دعویٰ صحیح ہے تاہم یہ طیارہ صومالیہ کی ایئرلائن کمپنی اسٹارسکی ایوی ایشن لمیٹڈ کا تھا جو عدن عدے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ایک حادثے کا شکار ہوگیا۔
وائرل دعوے کی جانچ پڑتال کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے گوگل کے ریورس امیج سرچ ٹول سے مدد حاصل کی۔ اس سے ملے نتائج میں ہمیں 14 فروری 2026 کا 'دی ہندو' کا انسٹاگرام پوسٹ ملا جس میں ساحل پر طیارے کے گرکر تباہ ہونے کی شفاف تصویروں کے ساتھ شامل کیپشن میں بتایا گیا ہیکہ " ایک مسافر بردار طیارہ، جس میں 50 افراد تک سوار تھے، منگل (10 فروری 2026) کو صومالیہ کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسل کر قریب کی ساحلی پٹی پر جا پہنچا۔ یہ واقعہ پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد تکنیکی خرابی کے سبب پیش آیا۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔"
عالمی میڈیا ادارے جیسے ٹی آر ٹی ورلڈ اور بی بی سی نے بھی طیارہ حادثے کی رپورٹنگ کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق، "صومالیہ کی ایک ایئرلائن نے اپنے ایک پائلٹ کی تعریف کی ہے جس نے تیکنیکی خرابی کے شکار اپنے مسافر طیارے کو دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ساحل پر ہنگامی لینڈنگ کرائی، اور اس میں سوار تمام 55 افراد کی جان بچ گئی۔ اسٹارسکی ایوی ایشن نے کہا کہ پائلٹ کی حاضر دماغی 50 مسافروں اور پانچ عملے کی جان بچانے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔"
صومالیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) نے بتایا کہ طیارے کے عملے نے موغادیشو سے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد طیارے میں فنی خرابی کے بارے میں اطلاع دی اور طیارے کو واپس ایئرپورٹ پر اتارنے کی اجازت مانگی۔
افریقی یونین کی صومالیہ میں معاونت اور استحکام مشن کے آفیشئل ایکس اکاونٹ پر بھی اس حادثہ کے بارے میں شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے، " گوریل سے گلکایو شہر جانے والے اس ہوائی جہاز میں 50 مسافر سوار تھے۔ یہ طیارہ پرواز کے تقریباً 15 منٹ بعد مکینیکل خرابی کا شکار ہوگیا اور موغادیشو لوٹنے کی کوشش کے دوران سمندر میں کریش لینڈ ہو گیا۔"
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہوگیا کہ حادثے کا شکار طیارے نے نہ تو کولکاتہ ایئرپورٹ سے اڑان بھری تھی اور نہ ہی اس میں تبلیغی جماعت کی مستورات سوار کررہی تھیں۔ یہ حادثہ، موغادیشو کے عدن عدے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا اور اس میں مقامی مسافر سوار تھے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

