فیکٹ چیک: دیوریہ کی معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی و قتل کا اصل ملزم ودیا ساگر ہے، محمد اکرم نہیں
وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ محمد اکرم نے اپنی بھتیجی کو ریپ کے بعد قتل کیا۔ تحقیق سے واضح ہوا کہ اصل ملزم ودیا ساگر ہے۔

Claim :
محمد اکرم نے اپنی 7 سالہ بھتیجی کو ریپ کے بعد قتل کرکے لاش دریا میں پھینک دیFact :
اصل ملزم ودیا ساگر ہے جس نے اپنی بھتیجی کو زیادتی کے بعد قتل کرکے اسکی لاش کو پانی میں بہا دیا۔ وائرل پوسٹ میں ملزم کا نام فرقہ وارانہ طور پر غلط بتایا گیا
حالیہ دنوں میں ایک خاتون نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کیڈٹ نے انڈین ریلوے کے ٹی ٹی ای پر الزام لگایا کہ ریلوے عہدیدار نے احمد آباد-گورکھپور ایکسپریس میں اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ اتر پردیش کے ضلع مئو کی رہنے والی متاثرہ لڑکی نے تھانے میں ملزم اور ٹی ٹی ای راہول کمار (پٹنہ) کے خلاف شکایت درج کرائی، جس کے بعد دیوریہ کی پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔ تاہم، راہول مفرور ہے اور پولیس نے اس کی اطلاع دینے پر دس ہزار روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔
ایس پی، جی آر پی گورکھپور، لکشمی نیواس مشرا نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی احمد آباد-ایکسپریس ٹرین سے مئو سے گورکھپور جا رہی تھی۔ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اے سی فرسٹ کلاس کوچ میں سوار ہوگئی اور ٹی ٹی ای راہول کمار سے اسکے لئے ٹکٹ کا انتظام کرنے کی درخواست کی۔ ٹی ٹی ای نے مبینہ طور پر اسے کیبن میں بند کر دیا اور اسکے ساتھی شرمناک حرکتیں شروع کردیں اور ساتھ ہی اسے نقصان پہنچانے کی بھی دھمکی دی۔
اترپردیش میں لڑکیوں کے خلاف جرائم کے پس منظر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ [آرکائیو] کررہے ہیں کہ "محمد اکرم نے اپنے ہی بھائی کی 9 سالہ بیٹی کو ہوس کا نشانہ بنایا اور پھر اس معصوم کی لاش کو کوڑے کی طرح دریا میں بہادیا۔ خاندان ہی میں چھپا ہوا ایک درندہ۔ کوئی انسان ایک معصوم لڑکی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ اس شیطان کو فوراً پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جانا چاہئے۔ بچوں کا ریپ کرنے والے اور قاتلوں پر رحم نہیں کیا جانا چاہئے! اگر آپ انصاف چاہتے ہیں تو اسے شیئر کریں۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ درج ذیل ہے۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ ملزم کا نام 'محمد اکرم' نہیں بلکہ 'ودیا ساگر' ہے۔ دریا سے نکالی گئی معصوم کی لاش کا ویڈیو فرقہ وارانہ دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلایا جارہا ہے۔
تحقیق کا آغاز کرنے سے پہلے جب ہم نے وائرل پوسٹس کے کمنٹس سیکشن میں تلاش کیا تو ہمیں 'ڈرنک جرنسلٹ' کا جوابی تبصرہ ملا جس میں بتایا گیا ہیکہ، "ایک ہندو شخص جس کا نام ودیا ساگر ہے، وہ اپنی 7 سالہ بھتیجی کو اسکول سے لے گیا، پھر اس معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں اس کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا اور آخر میں اس بے چاری کو دریا میں پھینک دیا۔"
اس جانکاری کی مدد سے جب ٹوئیٹر پر سرچ کیا گیا تو ہمیں 'سراج نورانی' نامی صحافی کا ایک پوسٹ ملا، جس میں متاثرہ لڑکی کی لاش نکالے جانے کے ویڈیو کا اسکرین شاٹ اور پولیس میں حراست میں ملزم ودیا ساگر کی تصویر کو شامل کرتے ہوئے یہ تحریر کیا گیا، " دیوریہ، اترپردیش میں ایک چچا درندہ بن گیا۔ اس نے اپنی 7 سالہ بھتیجی کو اسکول سے بہلا پھسلا کر لے گیا اور کھیت میں اس معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پھر اس کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا اور لاش کو تالاب میں پھینک دیا۔ پولیس کی تحقیقات کے دوران یہ کیس سامنے آیا اور مجرم ودیا ساگر کو گرفتار کر لیا گیا۔"
اس واقعہ کو 'دعینک بھاسکر' اور 'لائیو ہندوستان' کے نیوز پورٹلس نے بھی رپورٹ کیا ہے۔
"یہ واقعہ دیوریہ کے سری رام پورتھانہ علاقے کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ معمول کے مطابق 7 سالہ متاثرہ لڑکی بدھ کی صبح اسکول گئی تھی۔ تقریباً 10 بجے اس چاچا، وِدیاساگر (35)، اسکول پہنچا اور اسکول کے اسٹاف سے کہا کہ وہ لڑکی کو لے جارہا ہے۔ دکان سے شیمپو دلوا کر وہ اسے واپس اسکول چھوڑ دے گا۔ چونکہ بچی اسے پہچانتی تھی، اس لیے اسٹاف نے اسے بچی کے ساتھ بھیج دیا۔ وِدیاساگر اسے اپنی سائیکل پر بٹھا کر کھیت کی طرف چلا گیا۔ ملزم ودیاساگر کی بیوی نے کہا کہ ان کا شوہر شرابی ہے۔ جس طرح معصوم کی جان گئی ہے، اس کے شوہر کو بھی ویسی ہی سزاۓ موت دی جانی چاہیئے۔ تبھی انہیں اطمینان ہوگا۔"
دیوریہ کی پولیس نے اس واردات کی تفصیل اپنے آفیشئل ایکس اکاونٹ پر شیئر کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ گاوں والوں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد پولیس نے ملزم چاچا ودیاساگر کو فوری گرفتار کرکے اسکے خلاف مناسب دفعات کے تحت مقدمہ کرکے اسکے جیل بھیج دیا گیا۔
تحقیق اور میڈیا رپورٹس کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ دیوریہ کے گاوں میں پیش آنے والے شرمناک واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیکر پھیلایا جارہا ہے۔ وائرل پوسٹ میں ملزم کا نام 'محمد اکرم' بتایا گیا جبکہ سچائی یہ ہیکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہَوئے بھتیجی کے قتل کے الزام میں ملزم چاچا کو گرفتار کیا ہے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

