فیکٹ چیک: کشمیر ٹول پلازہ پر صرف اردو سائن بورڈ کا دعویٰ گمراہ کن
وائرل پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کشمیر ٹول پلازہ پر سائن بورڈ صرف اردو میں ہیں۔ جانچ سے واضح ہوا کہ بورڈز اردو، ہندی اور انگریزی میں ہیں۔ این ایچ اے آئی کے مطابق یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔

Claim :
کشمیر کے ٹول پلازہ پر نصب سائن بورڈز صرف اردو زبان میں ہیں اور ہندی و انگریزی کو نظرانداز کیا گیاFact :
وائرل ویڈیو میں صرف اردو سائن بورڈ دکھایا گیا جبکہ جموں وکشمیر میں ہائی وے پر انگریزی و ہندی کا بھی چلن ہے
حالیہ دنوں کی برفباری کے بعد سری نگر-جموں قومی شاہراہ (NH-44) کو ٹرافیک کیلئے کھول دی گئی ۔ مسافر بردار گاڑیوں کو سڑک کے دونوں جانب نقل و حرکت کی اجازت ہے جبکہ جموں کی طرف جانے والی بھاری موٹر گاڑیوں کو یک طرفہ چلانے کے احکامات جاری کئے گئے۔
تاہم، رامبن اور بانہال کے درمیان متعدد راستوں پر سنگل لین حصے، سڑک خراب ہونے کے سبب، اور چار لین سڑک کے تعمیراتی کاموں کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت سست دیکھی جارہی ہے۔ دوسری جانب، کشتواڑ-سینتھن-اننت ناگ قومی شاہراہ (NH-244) بھاری برف جمع ہونے کی وجہ سے بدستور بند ہے۔
اس درمیان سوشل میڈیا پر جموں وکشمیر کے ٹول گیٹ کا ایک ویڈیو [آرکائیو] وائرل ہورہا ہے جسے شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین دعویِٰ کررہے ہیں کہ کشمیر میں ٹول گیٹ پر لگائے گئے سائین بورڈس پر صرف اردو تحریر درج ہے۔ صارفین نے مرکزی وزیر نتین گڈکری اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہندی اور انگریزی میں سائین بورڈس کیوں نہیں لگائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ 'کیا کشمیر پاکستان کا حصہ ہے؟'
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ جموں وکشمیر میں قومی شاہراہوں پر ریاست کی سرکاری زبان اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگریزی تحریر میں بھی سائین بورڈس نصب کئے گئے ہیں۔
تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے موزوں الفاظ کی مدد سے گوگل سرچ کیا تو ہمیں وادی کشمیر میں سائن بورڈس پر 'ہندی' تحریر نظر آنے پر مقامی کشمیریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کئی ایک تبصرے ملے۔
تین سال پرانے 'ریڈیٹ' پوسٹ پر صارفین یہ بحث کررہے ہیں کہ قومی شاہراہ اور ائیر پورٹس پر ہندی میں سائن بورڈس کا استعمال موزوں ہوگا لیکن سری نگر کی گلی کوچوں میں ہندی میں سائن بورڈس کی کی ضرورت ہے۔ ایک سال پرانے ایک اور 'ریڈیٹ' پوسٹ پر کشمیری صارفین یہ بحث کررہے ہیں کہ ایک بیرونی زبان وادی کشمیر میں کیوں نافذ کی جارہی ہے جو نہ کوئی پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی لکھ سکتا ہے۔
اس جانکاری کی مدد سے گوگل سرچ کرنے پر ہمیں 9 اپریل 2024 کا 'امر اجالہ' کا ہندی مضمون ملا جس میں بتایا گیا ہیکہ، "ریاستی حکومت نے اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت ایس ایس سی ایل کو سری نگر شہر کی ترقی اور خوبصورتی کا ذمہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں کمپنی نے ایک انوکھی پہل کرتے ہوئے سائن بورڈ اردو اور انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی تحریر کئے ہیں۔"
"اسمارٹ سٹی میں سیاحوں اور راہگیروں کے سفر کو آسان بنانے کے لیے سری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ (ایس ایس سی ایل) نے ایک پہل کی ہے۔ شہر بھر کی سڑکوں پر پہلی بار ہندی میں نشانی بورڈ لگائے گئے ہیں جس سے لوگوں کو ان سائن بورڈز کی مدد سے اپنی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔"
مقامی ڈجیٹل میڈیا 'جے کے نیوز ٹوڈے' نے بھی اس کی رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ "ہندی کے سائن بورڈس سے وادی کشمیر میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔"
چونکہ بھارت میں قومی شاہراہیں بنیادی طور پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے ذریعے تعمیر کی جاتی ہیں انکی مرمت کی ذم داری بھی اسی مرکزی ادارے کی ہوتی ہے، اسلئے ہم نے این ایچ اے آئی کے سوشل میڈیا اکاونٹس سرچ کئے تو ہمیں ادارے کے جموں علاقائی دفتر کا 'ایکس' اکاونٹ ملا۔ 18 فروری کی ٹوئیٹ میں ادارے نے اردو، ہندی اور انگریزی میں سائن بورڈز کی تصویروں کو شئیر کرتے ہوئے لکھا: " "این ایچ اے آئی یہ واضح کرنا چاہتا ہیکہ کائچکوٹ ٹول پلازہ پر نصب کئے گئے سائن بورڈز اردو، ہندی اور انگریزی میں فراہم کیے گئے ہیں اور یہ تمام قابلِ اطلاق اصولوں، معیار اور رہنمایانہ خطوط کی سخت پابند ہیں۔ براہ کرم گمراہ کن معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔ حوالہ کے لیے میڈیا منسلک ہے۔"
ادارے نے ایک اور ٹوئیٹ میں ویڈیو کے ذریعے سائن بورڈز دکھانے کی کوشش کی ہے۔
تحقیق اور این ایچ اے آئی جموں کے وضاحتی بیان سے یہ واضح ہوگیا کہ جموں وکشمیر میں قومی شاہراہوں کے سائن بورڈز پر اردو کے علاوہ انگریزی اور ہندی میں علاقوں کے نام اور دیگر جانکاری تحریر پائی گئی ہے۔ وائرل ویڈیو میں کائچکوٹ ٹول پلازہ پر نصب کردہ صرف اردو کے سائن بورڈ کو دکھا کر ہندی اور انگریزی زبانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا فرضی دعویٰ کیا گیا ہے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

