فیکٹ چیک: کیا بھارت میں پیغمبر اسلام کی حیات طیبہ پر مبنی فلم ریلیز ہورہی ہے؟ جانئے پوری حقیقت
سوشل میڈیا پر وائرل پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارت میں "اللہ بندے" نامی فلم میں پیغمبر اسلام کا کردار ادا کرنے کی تصویر دکھائی گئی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ دعویٰ جھوٹا اور پرانا ہے، اور قرآن سے منسوب کی گئی عبارت بھی غلط ہے۔

Claim :
بھارت میں "اللہ بندے" نامی فلم ریلیز ہورہی ہے جس میں پیغمبر اسلام کا کردار ادا کرنے والے کی تصویر دکھائی گئی ہےFact :
خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات طیبہ پر مبنی فلم کا دعویٰ فرضی اور پرانا ہے
کیرالہ ہائی کورٹ نے "دی کیرالہ اسٹوری 2 - گوز بیانڈ" فلم کی ریلیز پر اس کی 27 فروری کی طے شدہ نمائش سے صرف ایک دن پہلے روک لگادی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ملک کے فلم سرٹیفیکیشن بورڈ نے فلم کو کلیئرنس دینے سے پہلے مناسب طور پر جانچ نہیں کی کہ آیا یہ فلم عوامی نظم و ضبط اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے یا نہیں۔
جسٹس بیچو کوریئن تھامس نے 26 فروری کو فلم کی ریلیز پر 15 دن کی روک لگائی اور مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر سرٹیفیکیشن کے خلاف نظرثانی درخواست پر غور کرے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہیکہ 2023 کی متنازعہ فلم "دی کیرالہ اسٹوری" کے سیکوئل میں ان کی ریاست کو بدنام کیا گیا ہے اور بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست اسلامی انتہا پسندی کا مرکز بن چکی ہے۔
اس درمیان، سوشل میڈیا پر اردو زبان میں ایک پیغام واٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر خوب وائرل ہورہا ہے۔ اس پیغام میں دعویٰ [آرکائیو] کیا گیا ہیکہ، "بھارت میں Allaah Banday نامی فلم ریلیز ہونے والی ہے۔ اس فلم میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ کا کردار ادا کرنے والے لعنتی شخص کی تصویر آنے والی ہےجو کہ ہمارے آقا کی بہت بڑی توہین ہے۔ اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے: 'اگر تم اپنے لوگوں کے سامنے مجھے رد کرو گے تو میں تمہیں اپنی نظروں میں رد کرونگا۔' تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ یہ فلم نہ دیکھیں اور اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکہ امت کو آگاہی ہو۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ درج ذیل ہے۔
یہاں واٹس ایپ پر وائرل میسج کا اسکرین شاٹ دیکھا جاسکتا ہے۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے 'اللہ بندے' نامی ہندی فلم سے متعلق وائرل دعوے کی تحقیق کے بعد پایا کہ یہ دعویٰ فرضی ہے کیوں کہ بالی ووڈ فلم انڈسٹری نے پیغمبر اسلام کی حیات مبارکہ پر مبنی نہ تو ایسی کوئی فلم بنائی ہے اور نہ ہی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے موزوں الفاظ کی مدد سے گوگل سرچ کیا تو ہمیں ایکس پلیٹ فارمس پر 2 دسمبر 2023 کو 'فریا لاسن' نامی صارف کا ٹوئیٹ ملا جس میں وائرل پیغام کو سلسلہ وار ٹوئیٹس میں بیان کرتے ہوئے بالی ووڈ فلم "آللہ کے بندے" کا پوسٹر شیئر کیا گیا ہے۔
وائرل مسیج میں یہ بھی کہا گیا ہے۔ "الله پاک قرآن میں فرماتا ہے:*اگر تم اپنے لوگوں کے سامنے مجھے رد کرو گے تو میں تمہیں اپنی نظروں میں رد کرونگا-*"
حقیقت یہ ہیکہ قرآن پاک میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں جسے صارف نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔ سچائی یہ ہیکہ یہ عبارت انجیل سے لی گئی ہے۔ 'نیو لیونگ ٹرانسلیشن' کی بائبل کے میتھیو کتاب کے چیپٹر10:33 میں آپ یہ قول پڑھ سکتے ہیں۔
مزید سرچ کرنے پر پتہ چلا کہ یہ پیغام نومبر 2020 سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر گردش کررہا ہے۔ اس وقت، وائرل کئے گئے پیغام کا متن کچھ یوں تھا۔
" مسلمانو سنبھل جاؤ ایک اور دجالی فتنہ آنے والا هے. __________ مکمل پڑھنا دوستو, پوری دنیا کے مسلمانوں سے گزارش ہےکہ انڈیا میں بننے والی فلم
Allaah Banday
جوکہ انڈیا کے سینما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہےاسے انڈیا میں روکا جائے. پوسٹر پہ الله کے نام کے ساتھ ساتھ گندی لڑکیوں کی تصویریں ہوں
الله پاک قرآن میں فرماتا ہے *اگر تم اپنے لوگوں کے سامنے مجھے رد کرو گےتو میں تمہیں اپنی نظروں میں رد کرونگا*
براہ مہربانی جتنی جلدی ممکن ہو اس MSG کو پهيلاديں۔
اس فلم میں ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کا کردار ادا کرنے والے لعنتی شخص کی تصویر آنےوالی ہےجو کہ ہمارے آقا کی بہت بڑی توہین ہے.
پوری دنیا کے مسلمانوں سے گزارش کی جاتی ہےکہ یہ Film نہ دیکھیں
یہ ایک پلان ہے جس کا مقصد ہے کہ جب کبھی بھی مسلمان نبی صلی الله علیہ وسلم کے بارےمیں سوچیں تو فوراً یہ تصویران کے دماغ میں آجائے.
جتنی جلدی ممکن ہو اس میسج کو پھیلا دیں کم از کم آپ کے فون میں جتنے نمبر ہیں ان تک تو لازمی پہنچائیں.
اپنے پیارے *نبی صلی الله علیہ وسلم* کی محبت میں اس پوسٹ کوپھیلا دینا میرے بھائیو اور بہنوں اور دوستو جزاکم اللہ خیرا.
___________________
نوٹ: بالی ووڈ کے مسلم نام والے آرٹسٹ اگر کوئی بات ان کے خلاف بول دے تو یہ لوگ سنیما گھروں کو پھوڑتے ہے، انکی فلموں کے پوسٹر جلاتے ہے، فلم چلنے نہیں دیتے .....
جس طرح الله کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے، اسی طرح نبی کریم صلی اللهُ عٓلٓیه وٓسٌلم کے جیسا کسی اور کو سمجھنا بھی شرک ہے ..!
اگر یہ فلم اس بات سے بے خبر کسی مسلمان نے دیکھ لی تو، اس کے شرک کے ذمہ دار ہم ہوں گے، کیونکہ یہ بات ہمیں معلوم تھی مگر ہم نے دوسروں تک نہیں پہنچائی۔ "
"اللہ بندے" یا "اللہ کے بندے"
"اللہ کے بندے" فلم 2010 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں بتایا گیا ہیکہ دو کم عمر لڑکوں کو ایک قتل کے الزام میں جیل بھیج دیا جاتا ہے، حالانکہ انہوں نے وہ جرم نہیں کیا تھا۔ اس فلم کو فاروق کبیر نے ہدایت دی ہے جس میں معروف اداکار نصیرالدین شاہ اور شرمن جوشی نے کام کیا ہے۔ اس فلم میں ممبئی میں جرائم کی دنیا کو دکھایا گیا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی مذہبی بات نہیں کی گئی ہے۔
IMDb کی ویب سائیٹ پر اس فلم کے یوزر ریویوس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
فاروق کبیر نے اپنی فلم ریلیز ہونے کے بعد 'ریڈیف' کو دئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دستاویزی فلم بنانے کے دوران انہیں "اللہ کے بندے" فلم بنانے کا خیال آیا۔ ڈاکیومنٹری کی فلمکاری کے دوران انہوں نے جرائم کی دنیا سے جُڑے چند بچوں سے ملاقات کی اور بچوں کی باتوں سے وہ کافی متاثر ہوئے۔ اسکے علاوہ انہوں ںے وارانسی کے مہیش نامی شخص کا بھی انٹرویو کیا جو ایک 'بالواڑی' (ریمانڈ ہوم) چلاتے ہیں جہاں وہ طوائفوں اور مجرموں کے بچوں کا مستقبل سنوار رہے ہیں۔ اس طرح انہیں بچوں کے جرائم میں ملوث ہونے سے متعلق فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہوگیا کہ بالی ووڈ نے تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وصلعم کی حیات مبارکہ پر مبنی کوئی فلم نہ تو بنائی ہے اور نہ اس نوعیت کی کوئی فلم بنانے کا اعلان یا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ وائرل پوسٹ میں "اللہ بندے" کے فرضی فلم کے نام ساتھ من گھڑت اور پرانا دعویٰ پھیلاکر عوام میں تشویش پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

