فیکٹ چیک: کیا ایران نے میزائل پر ایپسٹین متاثرین کی یاد میں فارسی تحریر شامل کی، جانئے پوری حقیقت
وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے اپنے میزائل پر ایپسٹین متاثرین کی یاد میں تحریر لکھی ہے۔ جانچ پڑتال سے ثابت ہوا کہ یہ عبارت اے آئی ٹولز سے شامل کی گئی ہے

Claim :
ایران نے اپنے میزائل پر فارسی عبارت 'بہ یاد قربانیاں جزیرہ ایپستین' تحریر کی ہےFact :
ایرانی میزائیل پر ایپسٹین جزیرے کی فارسی تحریر اے آئی ٹول کے ذریعے شامل کی گئی ہے
ایران اور امریکہ و اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔ ایک طرف امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران اور لبنان کے بڑے شہروں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب، تہران نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان حملوں میں ایران اور لبنان میں 1800 سے زائد ہلاکتیں درج ہوئی ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل اور امریکہ کی فوجیں ایران کے ساحل کے قریب جزائر کو نشانہ بنارہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی حملے میں خلیج فارس میں خارگ جزیرے پر فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا، جو ایران کے تیل کے نیٹ ورک کے لئے نہایت اہم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن نے جزیرے کے فوجی اثاثے "مکمل طور پر تباہ" کر دئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں کو روکنے کی کوشش کرے گا تو وہ تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں گے۔
اس درمیان سوشل میڈیا پر میزائیل کی تصویر خوب وائرل ہورہی ہے۔ اس تصویر میں دکھائے گئے ایرانی میزائیل کی نوک پر 'بہ یاد قربانیاں جزیرہ ایپستین' کی تحریر موجود ہے۔ صارفین اس تصویر کو شِیئر کرتے ہوئے دعویٰ [آرکائیو] کررہے ہیں کہ ایران کی فوج ان میزائیلوں کے ذریعے جیفری ایپستین کے متاثرین کا انتقام لے رہی ہے۔
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور تصویر کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ حقیقی تصویر میں ڈجیٹل طور پر ترمیم کرتے ہوئے میزائیل کی نوک پر فارسی تحریر 'بہ یاد قربانیاں جزیرہ ایپستین' شامل کی گئی ہے۔
تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے نے وائرل تصویر کا بغور مشاہدہ کیا تو ہمیں اس تصویر میں بھورے رنگ میں انگریزی میں 'ایرانین ملی ٹیریزم' کی تحریر ملی۔ وائرل تصویر اور انگریزی عبارت کی مدد سے گوگل سرچ کرنے پر ہمیں اسی عبارت سے 'ٹیلی گرام' چینل پر 11 مارچ کا پوسٹ ملا، جس میں یہ تصویر شیئر کی گئی تھی اور پھر اسے دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر خوب پھیلایا گیا۔ اس ٹیلی گرام چینل کے 58 ہزار سے زائد سب اسکرائبر ہیں۔
پھر ہم نے گوگل لینس ٹول کی مدد سے وائرل تصویر کو سرچ کیا تو ہمیں کچھ لنکس ملے۔ سوزان کیان پور نامی ایکس صارف نے اپنی ٹوئیٹ میں میزائیل کی وائرل تصویر اور حقیقی تصویر کو شِیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وائرل تصویر کی فارسی عبارت مصنوعی ذہانت کے ٹولس سے شامل کی گئی ہے۔
جب ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے بغیر فارسی عبارت والی تصویر کو سرچ کیا تو ہمیں ج فروری 2026 کا 'ڈیفنس سکیورٹی ایشیاء' کا مضمون ملا۔ اس مضمون میں کہا گیا ہیکہ اس میزائیل کو ایران کے میزائل پروگرام میں ایک اہم اضافہ کے طور پر دیکھا حارہا ہے اور آرٹیکل میں یہ بھی بتایا گیا ہیکہ: "ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے "خرم شہر-4" بیلسٹک میزائل کو فعال جنگی سروس میں شامل کر دیا ہے۔ یہ اقدام تہران کی جانب سے ایک واضح اسٹریٹیجک اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں سخت فوجی صلاحیت کو نپی تلی جغرافیائی سیاسی پیغام رسانی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب خطہ شدید عدم استحکام اور کشیدگی کا شکار ہے، یہ فیصلہ ایران کی طاقت کے مظاہرے اور خطے میں اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔"
چونکہ ایک ایکس صارف نے اشارہ دیا ہیکہ مصنوعی ذہانت کے ٹولس کی مدد سے میزائیل پر فارسی عبارت لکھی گئی ہے، اس لئے ہم نے اے آئی ڈٹیکشن ٹولس کی مدد سے اس دعوے کی تصدیق کرنے کی کوشش کی۔
وائرل تصویر کو معروف اے آئی ڈٹیکشن ٹول 'گوگل جیمینی' پر اپلوڈ کیا گیا۔ اس ٹول کے تجزیہ کے مطابق، "اس تصویر کا تمام یا کچھ حصہ گوگل اے آئی (AI) استعمال کرتے ہوئے ایڈٹ یا تیار کیا گیا ہے۔"
جانچ پڑتال اور اے آئی امیج ڈٹیکشن ٹولس کی مدد سے یہ واضح ہوگیا کہ ایران نے امریکی فنانسر اور بچوں کے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے انتقام کی بابت اپنے میزائیل پر فارسی زبان میں کوئی عبارت نہیں تحریر کی ہے۔ 'بہ یاد قربانیاں جزیرہ ایپستین' کی تحریر مصنوعی ذہانت کے ٹولس سے شامل کی گئی ہے۔ لہذا، وائرل دعویٰ من گھڑت پایا گیا۔

