فیکٹ چیک: واراناسی روپ وے گونڈولا کے سیفٹی ٹیسٹ کا ویڈیو گمراہ کن دعوے کے ساتھ وائرل
واراناسی میں زیر تعمیر عوامی ٹرانسپورٹ روپ وے کے گونڈولا کے جھولنے کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین تشویش ظاہر کررہے ہیں۔ تاہم، تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ ویڈیو منصوبہ بند حفاظتی ٹیسٹ کا حصہ تھا نہ کہ تکنیکی خرابی

Claim :
واراناسی روپ وے کا گونڈولا ہوا کے جھونکے سے بری طرح جھولنے لگا، مسافرین کی جان کو خطرہ لاحق ہےFact :
حکام کے مطابق گونڈولا کا اس طرح جھولنا منصوبہ بند حفاظتی ٹیسٹ کا حصہ تھا، اور اس میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں پائی گئی
گذشتہ مہینے کی بات ہے جب بھارت میں سوئٹزرلینڈ کی سفیر مایا ٹیسافی نے واراناسی شہر میں بنائے گئے روپ وے کا معائنہ کیا۔ انہوں نے روپ وے تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سہولت پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مضبوط کرے گا اور اس سے سیاحت، معاشی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ نیشنل ہائی ویز لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ نے سوئس کمپنی بارٹولیت کی اشتراکیت سے یہ روپ وے بنایا ہے، اور یہ بھارت کا پہلا عوامی ٹرانسپورٹ روپ وے ہوگا۔
توقع کی جارہی ہیکہ تقریباً 807 کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ روپ وے ٹریفک میں کمی لانے میں مدد کرے گا۔ 3.75 کلومیٹر کا یہ طویل روپ وے واراناسی کینٹ ریلوے اسٹیشن کو گوڈولیا چوک سے جوڑتا ہے۔ روپ وے کا پہلا ٹرائیل رن گذشتہ سال مارچ میں کیا گیا تھا، جس میں واحد گونڈولا نے کینٹ سے رتھ یاترا تک کے تقریباً 3 کلومیٹر کا فاصلہ طئے کیا تھا۔
اس درمیان، سوشل میڈیا پر واراناسی شہر کے روپ وے کا ہوا میں جھولتا ہوا گونڈولا کا ویڈیو شئیر کرتے ہوئے دعویٰ [آرکائیو] کیا جارہا ہیکہ، "واراناسی کا 815 کروڑ روپئے کی لاگت سے بنایا گیا روپ وے ایک ہوا کے جھونکے سے بری طرح جھولنے لگا ہے۔ ذرا تصور کریں، اس روپ وے سے 3.85 کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرنے والے لوگوں کی حالت کیا ہوگی۔ مانو خوف کے مارے ہر لمحہ ان کے لئے جیسے انکی جان نکل رہی ہو۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے اور ویڈیو کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ گونڈولا کا تیز ہوا سے جھولنا سیفٹی اقدام کا حصہ تھا اور اس ویڈیو کو گمراہ کن دعوے کے ساتھ شئیر کیا جارہا ہے۔
وائرل دعوے کی تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے موزوں کیورڈس کی مدد سے گوگل سرچ کیا تو ہمیں 3 اکتوبر 2025 کا 'ٹائمس آف انڈیا' کا مضمون ملا جس میں بتایا گیا ہیکہ 'بھارت کا پہلا شہری عوامی ٹرانسپورٹ روپ وے نظام کا اترپردیش کے واراناسی شہر میں ٹرائیل رن کا آغاز ہوچکا ہے۔'
'ای ٹی ڈجیٹل' کے یوٹیوب چینل پر روپ وے کے ٹرائیل رن کا ویڈیو دیکھا جاسکتا ہے۔
اس جانکاری کی مدد سے سرچ کرنے پر ہمیں 6 جنوری 2026 کا 'ایشیا نیٹ نیوز' کا مضمون ملا جس میں بیان کیا گیا ہیکہ، واراناسی کے ڈویژنل کمشنر ایس۔ راجالنگم نے تیز ہوا سے گونڈولا کے جھولنے کے وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا پر کئے جارہے حفاظتی خدشات کے دعووں پر ردعمل دیا ہے۔
راجالنگم نے وضاحت کی کہ وائرل ویڈیو فوٹیج ٹرائیل رن کے دوران منصوبہ بند حفاظتی ٹیسٹ کا ہے ۔
راجالنگم نے کہا کہ"روپ وے سے متعلق ایک سوشل میڈیا پر ایک گمراہ کن ٹوئیٹ صبح سے وائرل ہو رہی ہے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ روپ وے کا پہلا مرحلہ، کینٹونمنٹ سے رتھ یاترا تک، مکمل ہو چکا ہے۔ کئی دنوں سے ٹیسٹنگ جاری ہے۔ ٹیسٹنگ کے دوران کم سطح کی جانچ بھی کی جاتی ہے اور دیگر حفاظتی پہلوؤں کو بھی پرکھا جاتا ہے۔ اسی عمل کے تحت یہ بھی جانچا جاتا ہے کہ تیز ہوا کے دوران ایمرجنسی بریک لگنے پر کیبل کار کس زاوئے تک جھول سکتی ہے۔ ٹیسٹ کے دوران اس کا جھولنا قابلِ قبول حدود کے اندر پایا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز بالکل غلط ہیں۔ ان پر یقین نہ کریں۔"
اے این آئی کی راجا لنگم کے ساتھ بات چیت کا ویڈیو یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
حکومت نے بھی واراناسی روپ وے میں 'تکنیکی خرابی' کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس کو لیکر سوشل میڈیا پر پیدا کی گئی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
پریس انفارمیشن بیورو کی فیکٹ چیک یونٹ نے روپ وے کے وائرل ویڈیو کو گمراہ کن قراردیتے ہوئے کہا کہ پی آئی بی فیکٹ چیک کے مطابق، گونڈولا کا جھولنا جان بوجھ کر آزمائشی دوڑ کے دوران حفاظتی پہلوؤں کو پرکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ حکام نے وائرل پوسٹس کو "گمراہ کن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا گونڈولا کا جھولنا حفاظتی اصولوں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے کی گئی ٹیسٹنگ کا حصہ ہے۔ یہ سوئنگ سی ای این اور بی آئی ایس انجینئرنگ معیارات کے تحت مقررہ قابل قبول حدود کے اندر پائی گئی۔ ٹیسٹ میں ایمرجنسی بریک لگائے گئے تاکہ کیبن کے زیادہ سے زیادہ لمبائی کے رخ پر جھولنے کا جائزہ لیا جا سکے۔حکام نے وضاحت کی کہ اس نظام میں جان بوجھ کر ایک خاص حد تک لچک رکھی گئی ہے تاکہ روپ وے ہوا کے دباؤ، رفتار بڑھنے، کم ہونے اور ایمرجنسی کے دوران رکنے کی صورت میں محفوظ طریقے سے کام کر سکے۔
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے واضح ہوگیا کہ واراناسی کے روپ وے میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں۔ اسکے گونڈولا کے ہوا میں جھولنے کا ویڈیو بغیر سیاوسباق کے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عوام میں تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ حکام نے وضاحت دی ہیکہ گونڈولا کا اس طرح ہوا میں جھولنا دراصل ایک منصوبہ بند حفاظتی ٹیسٹ کا حصہ تھا نہ کہ کسی خرابی کی علامت۔ لہٰذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ گمراہ کن پایا گیا۔

