فیکٹ چیک: کیا اسرائیلی رپورٹر نے نیتن یاہو کی موت کی تصدیق کی؟ جانئے وائرل دعوے کی سچائی
وائرل پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی رپورٹر نے نیتن یاہو کی موت کی تصدیق کی ہے۔ فیکٹ چیک سے واضح ہوا کہ ویڈیو میں ایریئل کے میئر کو نیتن یاہو کی موت نہیں بلکہ ایرانی حملے میں تباہ شدہ مکان کا جائزہ لیتے دکھایا گیا ہے۔

Claim :
اسرائیلی رپورٹر نے ایرانی حملے میں نیتن یاہو کی موت کی تصدیق کی ہےFact :
وائرل ویڈیو میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موت یا ان کی رہائش گاہ نہیں بلکہ ایریئل شہر کے میئر کو ایرانی حملے میں تباہ شدہ مکان کا جائزہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے
حالیہ دنوں میں ایران کے فضائی حملے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی موت کے بارے میں افواہیں سوشل میڈیا پر گشت کررہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بنجمن نیتن یاہو کی موت سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کچھ ویڈیوز جاری کئے ہیں جسے سوشل میڈیا صارفین اے آئی سے بنائی گئی جھوٹی تصاویر یا ویڈیوز قراردے رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنی موت کے بارے میں آن لائن افواہوں کے جواب میں ایک نیا ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس بار وہ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ساتھ ایک بات چیت کرتے نظر آئے۔ نیتن یاہو کی جانب سے ایکس پر شیئر کئے گئے تازہ ترین ویڈیو میں ہکابی کو اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ان کے دفتر میں چلتے پھرتے دکھایا گیا ہے، ویڈیو میں ہکابی کہتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں نیتن یاہو کا حال جاننے کے لئے بھیجا ہے۔
اس بیچ سوشل میڈیا پر بنجمن نیتن یاہو کی موت کا ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین دعویٰ [آرکائیو] کررہے ہیں کہ "اسرائیلی صحافی کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو کی شاید اس گھر میں موت ہوئی ہوگی جس پر ایران نے کلسٹر بم گراکر مبینہ طور پر اسرائیل کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا۔"
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکاِئیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ مندرجہ ذیل ہے۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ کے ویڈیو کی جانچ پڑتال میں پایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایرانی حملے میں بنجمن نیتن یاہو کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے اور وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا شخص اسرائیلی جرنلسٹ نہیں بلکہ ایریئل بلدیہ کا میئر ہے جو ایرانی حملہ میں تباہ شدہ مکان کا مشاہدہ کررہا ہے۔
تحقیق کا آغاز کرتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے InVID ٹول کی مدد سے وائرل ویڈیو کے کلیدی فریمس اخذ کئے اور پھر ایک ایک کرکے انہیں گوگل ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے تلاش کیا تو ہمیں i24 news نامی عربی نیوز پورٹل کا 13 مارچ کا مضمون ملا جس میں وائرل ویڈیو کو شامل کرتے ہوئے بتایا گیا ہیکہ زرزیر قصبے میں ایک گھر پر ایران کے فضائی حملے سے ہونے والی تباہ کاری دکھائی گئی ہے۔ تاہم، ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کی تفصیل نہیں فراہم کی گئی۔
ہم نے گوگل لینس ٹول کی مدد سے مزید کلیدی فریمس سرچ کئے تو ہمیں ایکس پلیٹ فارم پر 'پاکستانی صارف' کا ٹوئیٹ ملا اور اس میں کئے گئے دعوے کے کمنٹَس سیکشن میں وائرل ویڈیو کے عبرانی زبان کے آڈیو کو 'ٹرانسلیٹ مام' نامی بوٹ نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس ترجمے کے مطابق، یہ بنجمن نیتن یاہو کی رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک عام شہری کا مکان ہے اور یہ شخص ایران کے میزائیل حملہ کی تباہ کاری کی فلم بندی کرتے ہوئے بتارہا ہے کہ اس گھر کے رہنے والوں نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی اقدامات کی ہدایات پر عمل کیا جس کی وجہ سے وہ تمام حملے میں بچ گئے ورنہ انکی جانیں بھی جاسکتی تھیں۔
تحقیق اور میڈیا رپورٹس سے واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مبینہ ہلاکت یا ان کی رہائش گاہ کو نہیں بلکہ ایریئل شہر کے میئریائیر شبتون کی جانب سے ایک مکان پر ایران کے میزائیل حملے سے ہونے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ فرضی پایا گیا۔

