فیکٹ چیک: ہند-بنگلہ دیش سرحد پر ترنگے کی بے ادبی کی تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے
سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں دعویٰ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام سرحد پر بھارتی پرچم کی بے ادبی کررہے ہیں، مگر تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ تصویر اے آئی سے تیار کی گئی ہے

Claim :
وائرل تصویر میں بنگلہ دیشی عوام سرحد پر بھارتی ترنگے کی بے ادبی کررہے ہیںFact :
ترنگے کی بے ادبی کی تصویر حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے
گذشتہ چند ہفتوں سے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر جاری مظالم کے نتیجے میں نئی دہلی اور ڈھاکہ کے بیچ تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ حکومت ہند نے اقلیتی جوانوں کے ہجومی تشدد [ماب لنچنگ] پر شدید ردعمل دیتے ہوئے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت سے خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اقلیتوں کے خلاف جاری "مسلسل دشمنی" پر "سنگین تشویش" کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود وزیر خارجہ ہند جئے شنکر نے سابق بنگلہ دیشی وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر حکومت اور عوام کی جانب سے تعزیت پیش کی
دوسری جانب، نئی دہلی نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے انچارج چیئرمین طارق رحمان کی 17 سال بعد ڈھاکہ واپسی پر محتاط ردعمل دیا اور کہا کہ یہ معاملہ بنگلہ دیش میں منصفانہ اور جامع انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے بھارت کی کوششوں سے جڑا ہے۔
نئی دہلی اور ڈھاکہ کے بیچ تناؤ کے تناظر میں سوشل میڈیا پر ہند۔بنگلہ دیش سرحد پر سڑک پر بنی بھارت کے قومی پرچم کی تصویر شیئر [ آرکائیو] کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کررہے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام ترنگے کی بے ادبی کررہے ہیں۔
وائرل پوسٹ کا لنک یہاں اور آرکائیو لنک یہاں ملاحظہ کریں۔
وائرل پوسٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیکھیں۔
فیکٹ چیک:
تلگو پوسٹ کی فیکٹ چیک ٹیم نے وائرل پوسٹ میں کئے گئے دعوے کی جانچ پڑتال میں پایا کہ یہ تصویر حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ٹولس سے تیار کی گئی ہے، جسے گمراہ کن دعوے کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے۔
سب سے پہلے ہم نے وائرل تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ ٹول کی مدد سے سرچ کیا تو ہمیں سوائے دعووں کے کوئی اور لنک نہیں ملا۔ سرحد پر بھارت کے پرچم کی بے ادبی کی خبر درست ہوتی تو سب سے پہلے بھارت کی سرحدی فوج اعتراض جتاتی اور دونوں ممالک کے میڈیا میں یہ خبر پڑھنے اور سننے کو ملتی، تاہم ہمیں ایسا کوئی بھی میڈیا ادارے کا ویڈیو یا نیوز آرٹیکل نہیں ملا جس میں اس دعوے کے حوالے سے تذکرہ کیا گیا ہو۔
پھر ہم نے بنگلہ دیش اور ہند کی سرحد کی تصویروں کا مشاہدہ کیا تو ہمیں 'بناپول۔پیٹرا پول بارڈر کراسنگ' کا وکی پیڈیا مضمون ملا اور یہ مقررہ بین الاقوامی زمینی سرحدی چوکی ہے جس کے راستے بنگلہ دیشی پاسپورٹ رکھنے والے افراد قانونی طور پر بھارت میں داخل ہو سکتے ہیں۔
بناپول۔پیٹرا پول بارڈر کراسنگ اور وائرل تصویر میں دکھائی گئی سرحد کا موازنہ کرنے پر پتہ چلتا ہے، دونوں ممالک کی سرحد پر دونوں ملکوں کے آفیشئیل نام لکھے ہوتے ہیں، جیسے جمہوریہ ہند اور جمہوریہ بنگلہ دیش، جبکہ وائرل تصویر میں غیررسمی انداز میں انگریزی میں 'گوڈ بائے ٹو بنگلہ دیش' کی تحریر دکھائی دیتی ہے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب تصویروں کے مطابق، بنگلہ دیش کی سرحد سے انڈو-بانگلہ بارڈر کچھ اس طرح نظر آتا ہے۔ کچھ فاصلے پر بھارت کی سرحد میں بانگلہ دیشی مسافرین کی آمد کیلئے نیلے رنگ کا گیٹ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
یہاں وائرل تصویر میں دکھائی سرحد اور حقیقی انڈو۔بانگلہ بارڈر کا موازنہ دیکھا جاسکتا ہے۔
پھر ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا وائرل تصویر کہیں اے آئی ٹولس سے تو نہیں بنائی گئی ہے۔ اپنی جانچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے وائرل تصویر کو معروف اے آئی ڈٹیکشن ٹول 'ہائیو ماڈریشن' پر اپلوڈ کیا۔ اس ٹول کے تجزیہ کے مطابق، 96.4 فیصد اس بات کا امکان ہے کہ مذکورہ امیج یا تو اے آئی کی دین ہے یا پھر اس میں ڈیپ فیک کا مواد شامل ہونے کا امکان ہے۔
ہم نے ایک اور اے آئی جانچ ٹول، 'ان ڈٹیکٹبل اے آئی' پر وائرل تصویر کی جانچ کی۔ اس ٹول کے تجزیہ میں بتایا گیا ہیکہ وائرل تصویر کی تیاری میں 99 فیصد اے آئی ٹکنالوجی کے استعمال کا امکان ہے۔
تحقیق اور اے آئی جانچ ٹولس کی مدد سے یہ بات واضح ہوگئی کہ وائرل تصویراے آئی ٹکنالوجی کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور اسے غلط بینائے کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔ لہذا، وائرل پوسٹ میں کیا گیا دعویٰ من گھڑت اور تصویر فرضی پائی گئی۔

